معاشی عدم استحکام، متضاد پالیسیاں رئیل اسٹیٹ کے سرمایہ کاروں کو متحدہ عرب امارات کی طرف دھکیل رہی ہیں.ویلتھ پاک
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔15 جون ۔2025 )پاکستان کی رئیل اسٹیٹ انڈسٹری جو کہ جی ڈی پی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے کو سست روی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے بہت سے رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز اور سرمایہ کار متحدہ عرب امارات میں سرمایہ کاری کرنے پر مجبور ہیں.
(جاری ہے)
ویلتھ پاک کے ساتھ بات کرتے ہوئے پراپرٹی ڈویلپرز کے ٹیکس کنسلٹنٹ اسد محمود نے کہا کہ دبئی، ابوظہبی اور شارجہ میں کاروبار رجسٹر کرنے والے پاکستانی ڈویلپرز کی تعداد میں واضح اضافہ ہوا ہے انہوں نے وضاحت کی کہ یہ بنیادی طور پر کاروبار کرنے میں آسانی، سرمایہ کاروں کے لیے دوستانہ ٹیکس پالیسیاں، اور متحدہ عرب امارات میں ریگولیٹری فریم ورک کی پیش گوئی کی وجہ سے ہے پچھلے دو وفاقی بجٹوں میں، حکومت نے زیادہ کیپٹل گین ٹیکس متعارف کرایا، ودہولڈنگ ٹیکس میں اضافہ کیا اور دستاویزات کی ضروریات کو سخت کیا اگرچہ ان اقدامات کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور کالے دھن کو روکنا تھا، لیکن انہوں نے غیر ارادی طور پر سرمایہ کاروں کو دور کر دیا ہے. انہوں نے کہاکہ ٹیکس اصلاحات کا ارادہ درست ہے لیکن اس پر عمل درآمد سخت اور مشاورت کے بغیر کیا گیا ہے ڈویلپرز دباﺅ کا شکار ہیں ان پر صرف زیادہ ٹیکس نہیں لگایا جا رہا ہے بلکہ ان پر غیر متوقع طور پر ٹیکس لگایا جا رہا ہے یہ وضاحت کی کمی کاروبار کرنے کی لاگت کو بڑھاتی ہے اور اعتماد کو کمزور کرتی ہے جبکہ متحدہ عرب امارات اس کے برعکس پیش کرتا ہے یہ ملک پاکستانیوں سمیت جنوبی ایشیائی سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر ابھرا ہے جس میں طویل مدتی ریزیڈنسی ویزا، صفر پرسنل انکم ٹیکس، اور ہموار کمپنی کی تشکیل کے طریقہ کار جیسے اقدامات شامل ہیں. انہوں نے کہاکہ دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ شفاف، اچھی طرح سے ریگولیٹڈ، اور بین الاقوامی سطح پر مربوط ہے پاکستانی ڈویلپرز کو نہ صرف بہتر منافع ہوتا ہے بلکہ کم تعمیل میں سر درد بھی ہوتا ہے یہ تبدیلی کا رجحان طویل مدتی اثرات رکھتا ہے اگر اعلی مالیت والے افراد اور تعمیراتی فرم پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے باہر نکلنا جاری رکھیں تو اس سے شہری ترقی رک سکتی ہے، تعمیرات سے منسلک صنعتوں میں روزگار کم ہو سکتا ہے اور مستقبل میں ٹیکس کی آمدنی کم ہو سکتی ہے مزید یہ کہ یہ ہاﺅسنگ سپلائی بڑھانے اور شہری ہاوسنگ خسارے کو پورا کرنے کے حکومت کے وسیع تر منصوبوں میں تاخیر کر سکتا ہے. انہوں نے محصولات کی وصولی اور سرمایہ کاری کی ترغیبات کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے ٹیکسیشن پالیسی پر نظرثانی کی سفارش کی اور کہاکہ ہمیں استحکام، پیشین گوئی، اور ایک ایسے ریگولیٹری ماحول کی ضرورت ہے جو مقامی سرمائے کو رہنے کی ترغیب دے ورنہ پاکستان نہ صرف اپنی دولت بلکہ معاشی بحالی کے لیے اپنی صلاحیت کو بھی برآمد کرتا رہے گاپاکستانی سرمایہ کار دبئی کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر مضبوط اثر ڈال رہے ہیں جو کہ سب سے اوپر غیر ملکی خریداروں میں پانچویں نمبر پر جا رہے ہیں گزشتہ سال وہ ساتویں نمبر پر تھے رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستانی شہری خریداروں کا سب سے بڑا گروپ بنے ہوئے ہیں اس کے بعد برطانوی سرمایہ کار ہیں روسی خریدار جو پہلے تیسرے نمبر پر تھے اب گر کر نویں نمبر پر آ گئے ہیں جبکہ ترک سرمایہ کار دسویں نمبر پر آ گئے ہیں.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے متحدہ عرب امارات سرمایہ کاروں رئیل اسٹیٹ سرمایہ کار انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے حکومت کو سفارش کی ہے کہ مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کی جائے اور اس پر مؤثر و لازمی عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور کمزور گھریلو معاشی حالات کے پیش نظر کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض سالانہ اعلان کے بجائے ایک مؤثر سماجی و معاشی پالیسی کے طور پر اپنانا ضروری ہے۔
مالی سال 2026-27 کے بجٹ سے قبل حکومت کو بھجوائے گئے اپنے پالیسی نوٹ میں پائیڈ نے کہا ہے کہ مسلسل مہنگائی، خوراک اور توانائی کے شعبوں میں قیمتوں کے جھٹکوں، غیر رسمی روزگار کے پھیلاؤ اور گھریلو معاشی مشکلات کے ماحول میں کم از کم اجرت کی پالیسی کو ایک قابلِ اعتماد سماجی و معاشی آلے میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، جو ایک طرف مزدوروں کا تحفظ کرے اور دوسری جانب معاشی طور پر قابلِ عمل بھی ہو۔
یہ بھی پڑھیے بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
ادارے نے سفارش کی کہ کم از کم اجرت کے سالانہ اعلانات کو محض علامتی یا صوابدیدی فیصلوں کے بجائے ایک شفاف اور قواعد و ضوابط پر مبنی نظام کے تحت طے کیا جائے، جس کی بنیاد مستند سرکاری اعداد و شمار اور بین الاقوامی محنت تنظیم (آئی ایل او) کے اصولوں پر ہو۔
پالیسی بریف میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ طریقہ کار کسی ایک معاشی اشاریے یا من مانے اضافے پر انحصار کرنے کے بجائے قوتِ خرید کے تحفظ، مزدور اور اس کے خاندان کی بنیادی ضروریات، لیبر مارکیٹ کی استعداد، پیداواری صلاحیت میں جزوی شراکت اور صوبائی سطح پر عملدرآمد کی حقیقتوں کو مدنظر رکھتا ہے۔
پائیڈ کے مطابق اس اصلاحاتی فریم ورک کے چار بنیادی ستون ہیں: شواہد پر مبنی اور شفاف اجرت کا تعین، صوبائی سطح پر مناسب ایڈجسٹمنٹ، مؤثر نگرانی اور عملدرآمد کا نظام، اور اجرتوں کے تعین و نفاذ سے متعلق سالانہ رپورٹنگ۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال وفاقی حکومت نے کم از کم اجرت کا روایتی اعلان بھی نہیں کیا تھا۔ اس وقت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا تھا کہ کاروباری ادارے پچھلے سال مقرر کی گئی کم از کم اجرت ادا کرنے کے لیے بھی تیار نہیں تھے۔
پائیڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان بیورو آف شماریات اور وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے سرکاری اعداد و شمار پر مجوزہ فریم ورک کا اطلاق کرنے سے مالی سال 2026-27 کے لیے 45 ہزار روپے ماہانہ کی قومی کم از کم اجرت کا حوالہ جاتی معیار سامنے آتا ہے، جو موجودہ 40 ہزار روپے کی مقررہ اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد زیادہ ہے۔
پائیڈ کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم جاوید نے کہا کہ کم از کم اجرت کی پالیسی محض سالانہ رسمی مشق نہیں رہ سکتی جو معاشی حقائق اور مزدوروں کی فلاح سے کٹی ہوئی ہو۔ ان کے بقول پاکستان کو ایک ایسا قابلِ اعتماد اجرتی نظام درکار ہے جو مزدوروں کے تحفظ، پیداواری صلاحیت، کاروباری پائیداری اور معاشی استحکام کے درمیان توازن قائم کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ برآمدات پر مبنی ترقی اور سماجی استحکام کا خواہاں ملک محنت کش طبقے کی غربت، اجرتوں میں غیر یقینی صورتحال اور لیبر مارکیٹ کے منتشر نظام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پائیدار معاشی اصلاحات کا مقصد کارکنوں کو وقار، پیش بینی اور معاشی تحفظ فراہم کرنا بھی ہونا چاہیے۔
مجوزہ ’قومی حوالہ جاتی معیار اور صوبائی ایڈجسٹمنٹ‘ ماڈل کے تحت صوبوں کو یہ آئینی اختیار حاصل رہے گا کہ وہ مقامی معاشی حالات کے مطابق قومی کم از کم معیار کے برابر یا اس سے زیادہ اجرت مقرر کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیے بجٹ 27-2026 میں کون سی اشیا سستی ہونے کا امکان ہے؟
پائیڈ کی تجویز کے مطابق پنجاب میں کم از کم اجرت 45 ہزار روپے، جبکہ شہری اخراجات اور رسمی شعبے میں روزگار کے زیادہ ارتکاز کی وجہ سے سندھ اور خیبر پختونخوا میں 46 ہزار روپے مقرر کی جا سکتی ہے۔ بلوچستان کے لیے جغرافیائی مسائل اور منڈیوں تک رسائی کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے 45 ہزار 500 روپے کی تجویز دی گئی ہے۔
مطالعے کے شریک مصنف اور پائیڈ میں معاشیات کے پروفیسر ڈاکٹر ایس ایم نعیم نواز نے کہا کہ مؤثر کم از کم اجرت وہی ہو سکتی ہے جو مزدور حقیقتاً حاصل کر سکیں اور صوبے مؤثر انداز میں نافذ کر سکیں۔
ان کے مطابق صرف افراطِ زر یا غربت کی لکیر کو بنیاد بنانے کے بجائے ایک جامع اور متوازن طریقہ کار اپنانا ضروری ہے، جو کاروباری استطاعت، عملدرآمد کی صلاحیت اور اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھے کہ پاکستان میں تقریباً 80 فیصد روزگار اب بھی غیر رسمی شعبے سے وابستہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بجٹ