اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔15 جون ۔2025 )پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث امریکا کے دو اہم دورے ملتوی کردیے ہیں جن میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور تجارتی وفد کا دورہ امریکا شامل ہے سرکاری ذرائع کے حوالے سے” ڈان نیوز“نے بتایا ہے کہ اسحاق ڈار آئندہ ہفتے نیویارک میں فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق اقوامِ متحدہ کے ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے روانہ ہونے والے تھے لیکن جمعہ کو فرانس اور سعودی عرب جو اس کانفرنس کے مشترکہ میزبان تھے نے اقوامِ متحدہ سے درخواست کی کہ یہ اجلاس ملتوی کر دیا جائے.

(جاری ہے)

یہ درخواست اسرائیل کے ایران پر فضائی حملوں کے بعد کی گئی، پیرس میں گفتگو کرتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے لیے دو ریاستی حل کو آگے بڑھانے والی اس کانفرنس کو موخر کیا گیا ہے لیکن یہ جلد منعقد کی جائے گی. صدر میکرون نے کہا کہ ہمیں سیکیورٹی اور لاجسٹک وجوہات کی بنا پر اس کانفرنس کو موخر کرنا پڑ رہا ہے لیکن یہ جتنی جلد ممکن ہو، منعقد کی جائے گی مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے ایک اور مجوزہ دورہ بھی موخر ہو گیا ہے اسلام آباد سے واشنگٹن جانے والے تجارتی وفد کو ٹیرف سے متعلق مذاکرات کرنا تھے.

گزشتہ ہفتے ایک پریس بریفنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ یہ تجارتی وفد اگلے ہفتے مذاکرات کے لیے پہنچے گا تاہم اب یہ دورہ موخر کر دیا گیا ہے ذرائع نے بتایا کہ دورے کے نئے شیڈول پر پر کام کر رہے ہیں جس کے بعد تجارتی وفد دورے کے نئے شیڈول کے تحت امریکا جائے گا.                                                                                 

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے تجارتی وفد

پڑھیں:

جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا

تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔

غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔

سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔

ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔

تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی