95فیصد لوگوں کے پاس ایئر کنڈیشنر نہیں ،چیئرمین ایف بی آر
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (صباح نیوز) چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)راشد لنگڑیال نے انکشاف کیا کہ شدید گرمی کے باوجود 95فیصد لوگوں کے پاس ایئر کنڈیشنر نہیں ہے۔ سینیٹ کمیٹی اجلاس میں سلیم مانڈوی والا، فاروق ایچ نائیک اور شبلی فراز سمیت دیگر ارکان نے شرکت کی، اس موقع پر راشد لنگڑیال نے بریفنگ دی۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ٹیکس فائلرز کی تعداد 60لاکھ ہے، شدید گرمی کے باوجود 95 فیصد لوگوں کے پاس ایئرکنڈیشنڈ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ 18سال کم عمر اور بزرگوں کی تعداد 13کروڑ 20لاکھ ہے، ملکی آبادی کا یہ حصہ لیبر فورس سے باہر ہے، خواتین کی بڑی تعداد تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بے روزگار ہے۔ اس موقع پر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ 250کمپنیوں کو اینٹی منی لانڈرنگ کے نوٹس آئے ہیں، اے ایم ایل نوٹس وزیر اور چیئرمین کی منظوری کے بغیر نہ دیا جائے۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کسی کمپنی کو اے ایم ایل کا نوٹس آجائے دنیا بھر کے ادارے تحقیقات شروع کر دیتے ہیں، اے ایم ایل کے نوٹس پر کمپنی کے بنکنگ چینل بند ہو جاتے ہیں۔ شبلی فراز نے کہا کہ بتایا جائے کہ اے ایم ایل کے تحت کتنے کیس بنے اور کتنے لوگوں کو سزا ملی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اے ایم ایل نے کہا کہ
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ