دبئی پولیس نے جعلی لنکس کے ذریعے بینکنگ ڈیٹا چوری کرنے والا سائبر گینگ گرفتار کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
دبئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 جون 2025ء)دبئی پولیس کے انسداد فراڈ مرکز نے ایک ایسے سائبر گینگ کو گرفتار کر لیا ہے جو مشہور ریسٹورنٹس، ڈیلیوری کمپنیوں اور پروموشنل آفرز کا جھانسہ دے کر جعلی لنکس کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دیتا تھا۔ پولیس نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی غیر معتبر ذرائع سے موصول ہونے والے لنکس پر کلک نہ کریں، چاہے وہ کسی معروف ادارے کے نام سے ہی کیوں نہ ہوں۔
(جاری ہے)
مشتبہ لنکس کو فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن، دبئی پولیس ایپ کے ‘پولیس آئی’ فیچر یا eCrime پلیٹ فارم کے ذریعے رپورٹ کریں۔ پولیس کے مطابق، یہ گینگ جعلی ناموں اور آفرز کے ساتھ ایس ایم ایس اور لنکس بھیجتا تھا، جس سے متاثرہ افراد دھوکہ کھا کر اپنے بینکنگ ڈیٹا درج کر دیتے تھے۔ گینگ اس ڈیٹا کو استعمال کر کے رقم نکال لیتا تھا۔ انسداد فراڈ مرکز کی ماہر ٹیموں نے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ان پیغامات کی نوعیت اور مشکوک آن لائن سرگرمیوں کا تجزیہ کیا، جس کے نتیجے میں گینگ کے ارکان کی شناخت اور گرفتاری عمل میں آئی، اور ان کے استعمال شدہ الیکٹرانک آلات بھی ضبط کر لیے گئے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔