ایران‘ اسرائیل کشیدگی : 7پروازیں منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی،لاہور (صباح نیوز)ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ اور کشیدگی کے باعث نجف سے کراچی، باکو سے لاہور اور کراچی سے جدہ کیلئے 7 پروازیں منسوخ کردی گئیں۔غیرملکی ایئرلائن کی کویت سے کراچی کی 2 پروازیں 6 گھنٹے سے زائد تاخیر کا شکار ہوئیں جبکہ دبئی سے کراچی کی 2 پروازیں ای کے 606 اور 607 کی روانگی میں 2 گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئیں ۔کراچی سے استنبول آنے اور جانے والی 4 پروازیں ایک گھنٹے سے زائد تاخیر کا شکار رہیں جبکہ قومی ایئر لائن کی کراچی سے مسقط کی پرواز پی کے 225 کی روانگی میں 5 گھنٹے تاخیر ہوئی ۔علاوہ ازیں شارجہ اور دبئی سے فیصل آباد آنے اور جانے والی 4 پروازیں 2 گھنٹے جبکہ شارجہ سے سیالکوٹ اور دبئی سے ملتان کی 4 پروازیں ایک گھنٹے سے زائد تاخیر کا شکارہوئیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تاخیر کا
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔