وزیراعظم کے تن پر خود کپڑا نہیں، عوام کو کیا ریلیف دینا ہے، فواد چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
اسلام آباد:سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے تن پر خود کپڑا نہیں، انہوں نے عوام کو ریلیف کیا دینا ہے، یہاں نہ کوئی پوچھنے والا ہے اور نہ بتانے والا ہے۔
اے ٹی سی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں فواد چوہدری نے کہا کہ کبھی سنا ہے صوبے کی چیف منسٹر صوبے کو ایئر فورس کا جہاز مل جائے اور وہ بھی اس لیے کہ چیف منسٹر نے علاج کے لیے جنیوا جانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا جہاز ایسے استعمال کر رہے ہیں جیسے کہ ٹیکسی ہے، یہ لوگ اپنے ذاتی کاموں کے لیے خرچہ کر رہے ہیں۔
فواد چوہدری نے کہا کہ فیصل آباد میں جس طرح سے ٹرائل چلایا جا رہا ہے اس سے بہتر ہے آپ ٹرائل ملٹری کورٹس میں بھجوا دیں، ہائیکورٹ میں میری درخواست زیر التوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کبھی بھی پہلے ایسے مقدمات میں ٹرائل نہیں کیا گیا، بدترین حالات ہو چکے ہیں اور ٹرائل عجیب طریقے سے چل رہا ہے۔ اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کے وکلاء اور فیملی کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ آپ دیکھیں کہ پنجاب میں 13 ارب روپے ٹوٹل بجٹ صفائی ستھرائی کا ہے۔ عید کے تین دنوں میں 30 ارب روپے خرچ کر دیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت نے کہا کہ ہم نے آلائشیں ٹھکانے لگانی ہیں، اس طریقے سے پیسے لگائے جا رہے ہیں جس کا کسی کو پتہ ہی نہیں ہے۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فواد چوہدری نے کہا کہ
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔