ایران میں موساد کے مبینہ جاسوس کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
ایران کی عدلیہ سے منسلک نیوز ایجنسی میزان آن لائن کے مطابق، اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے لیے مبینہ طور پر کام کرنے والے ایک انڈر کور جاسوس کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اسماعیل فکری نامی شخص کو ایرانی عدلیہ نے ملک کی خفیہ اور حساس معلومات دشمنوں کو فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا جسے سزائے موت سنائی گئی تھی۔ سپریم کورٹ کی جانب سے سزا برقرار رکھے جانے کے بعد اسے پھانسی دے دی گئی۔
میزان آن لائن نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ اسماعیل فکری اسرائیل کے دو موساد افسران کے ساتھ رابطے میں تھا اور اہم خفیہ معلومات ان تک پہنچا رہا تھا۔
اسماعیل فکری کو دسمبر 2023 میں گرفتار کیا گیا تھا، اور عدالتی کارروائی کے بعد اس پر جاسوسی، قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے اور دشمن ممالک کے ساتھ تعاون جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔
اسرائیلی نیٹ ورک کے لیے بڑا دھچکاایرانی عدلیہ نے اسماعیل فکری کی گرفتاری اور سزا کو اسرائیل کے خفیہ نیٹ ورک کے لیے بڑا انٹیلی جنس نقصان قرار دیا ہے۔
میزان آن لائن نے عدالتی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ پھانسی ایرانی انٹیلی جنس کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے اور اسرائیل کی خفیہ کارروائیوں کے جواب میں ایک سخت پیغام ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری خفیہ محاذ آرائی میں یہ واقعہ ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایران کی جانب سے موساد کے مبینہ جاسوس کی پھانسی نہ صرف انٹیلی جنس سیکیورٹی کا اظہار ہے بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اپنے اندرونی سیکیورٹی نظام کو فعال اور موثر بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل اسماعیل فکری ایران موساد کا جاسوس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل اسماعیل فکری ایران موساد کا جاسوس اسماعیل فکری کے لیے
پڑھیں:
واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔
لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔
دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔