اقرار الحسن کی پہلی اور تیسری بیوی کا پوڈکاسٹ وائرل
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
معروف ٹی وی میزبان اقرار الحسن کی پہلی بیوی قرۃ العین اور تیسری اہلیہ عروسا خان کے پوڈکاسٹ کی ویڈیو وائرل ہوگئی، جس پر صارفین نے دلچسپ تبصرے بھی کیے۔
ٹی وی میزبان کی دونوں بیویوں نے پہلی بار کسی آن اسکرین پروگرام میں ایک ساتھ شرکت کی، جہاں دونوں نے شوہر اور گھر سے متعلق بھی گفتگو کی۔
اقرار الحسن کی پہلی بیوی قرت العین نے اپنی سوکن عروسا خان کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جس پر مداح بھی حیران رہ گئے اور دونوں نے مل کر شوہر سے متعلق بھی گفتگو کی۔
پروگرام کے دوران قرۃ العین نے بتایا کہ انہوں نے ہی اقرار الحسن سے محبت میں پہل کی، دل لگی کا آغاز شعر و شاعری سے ہوا جو شادی میں تبدیل ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ شادی اور بچہ ہونے کے بعد انہوں نے صحافت کو اس لیے چھوڑا، کیوں کہ صحافت میں زیادہ وقت دینا پڑتا ہے، وہاں ہر وقت کام ہوتا رہتا ہے۔
پوڈکاسٹ کے ایک سیکشن میں سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اگر جہاز کے سفر کے دوران ایک سیٹ پر دو میں سے ایک شخص کو بٹھانے کا کہا جائے گا تو شوہر کے بجائے سوکن عروسا خان کو اپنے ساتھ بٹھائیں گی۔
ان کے مطابق ان کے شوہر اقرر الحسن اپنا بندوبست کرلیں گے، اس لیے وہ انہیں جہاز پر اپنے ساتھ نہیں بٹھائیں گی۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بیٹے پہلاج اور شوہر کے مقابلے بیٹا کا انتخاب کیا اور بیٹے کو اپنی زندگی قرار دیا۔
قرت العین نے پروگرام میں اپنی دوسری سوکن فرح اقرار کا ذکر تک نہیں کیا اور نہ ہی عروسا خان نے ان سے متعلق کوئی سوال کیا۔
ایک سوال کے جواب میں قرت العین نے عروسا خان کی تعریفیں بھی کیں اور کہا کہ ان کا ان کی زندگی میں آنا مثبت تبدیلی ہے، تاہم انہوں نے اس کی مزید کوئی وضاحت نہیں کی۔
یہ پہلا موقع ہے کہ اقرار الحسن کی پہلی اور تیسری بیوی نے ایک ساتھ پوڈکاسٹ میں شرکت کی۔
خیال رہے کہ اقرا الحسن نے پہلی شادی سابق نیوز کاسٹر قرت العین سے 2010 سے قبل کی تھی، جن سے انہیں ایک بیٹا بھی ہے۔
ٹی وی میزبان نے دوسری شادی نیوز کاسٹر فرح سے کی اور ان سے شادی کو بھی ایک دہائی سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔
اقرار الحسن نے تیسری شادی تقریبا دو سال قبل صحافی عروسہ خان سے کی، انہوں نے بعد میں کی جانے والی اپنی دونوں شادیوں کو کچھ عرصے تک خفیہ بھی رکھا۔
مئی 2024 میں انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ان کی تینوں بیویاں ایک ساتھ نہیں رہتیں، تاہم تینوں کے آپس میں اچھے تعلقات ہیں۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اقرار الحسن کی پہلی قرت العین العین نے انہوں نے
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔