پاکستان سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو متحد ہونا ہوگا،وفاقی وزیر صحت
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 16 جون2025ء) وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ پاکستان سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو متحد ہونا ہوگا،پولیو کے قطرے ہی بچوں کو معذوری سے بچانے کا واحد راستہ ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کمشنر ہاؤس کوئٹہ میں سیکرٹری ہیلتھ مجیب الرحمان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ پولیو وائرس کے کیسز پر دنیا بھر میں تشویش پائی جاتی ہے ،گزشتہ سال ملک بھر میں پولیو کے 61 کیس رپورٹ ہوئے جبکہ رواں سال اب تک 11 کیس سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیو وائرس سے متاثرہ بچے کا علاج دنیا میں کہیں بھی دستیاب نہیں ہے۔ وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان کے ہر ضلع میں پولیو کا وائرس پایا جاتا ہے ہمارے شہروں میں صاف پانی کی کمی اور کچرے کے ڈھیر بھی پولیو کے پھیلاؤ کا باعث بنتے ہیں۔(جاری ہے)
پولیو کے قطرے ہی بچوں کو معذوری سے بچانے کا واحد راستہ ہیں، اگر پولیو ٹیمیں گھر گھر جا کر قطرے نہ پلاتی تو آج ہزاروں بچے معذور ہو چکے ہوتے ۔ انہوں نے پولیو ورکرز کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا، جنہوں نے اس مہم کے دوران اپنی جانیں قربان کیں۔ وفاقی وزیر صحت نے پولیو قطرے نہ پلانے والے والدین کے حوالے سے کہا کہ ان سے زبردستی نہیں کی جائے گی بلکہ ان سے بات چیت کی جائے گی۔ اگروالدین کو اپنے بچوں سے ذرا بھی پیار ہے تو وہ انہیں معذور ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہیں گے اور خود ہی پولیو سے بچائو کے قطرے پلوائیں گے، اس مرض کو پورے پاکستان سے ختم کرنے کے لئے ہر مکتبہ فکر کے لوگوں، چاہے وہ سیاسی ہوں یا مذہبی ،کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بھی پولیو کے خلاف بھرپور مہم چلائی جا رہی ہے اور افغان حکومت پولیو ٹیموں کی مکمل مدد کر رہی ہے۔ انہوں نے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں۔ انہوں نے معاشرے کے ہر بااثر طبقے سے اس نیک کام میں اپنا کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم سب کو مل کر ملک سے پولیو کے وائرس کو ختم کرنا ہے۔ انہوں نے بلوچستان میں پولیو کے خلاف جہاد میں شہید ہونے والوں کو خراج تحسین پیش کیا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پولیو کے انہوں نے کے قطرے
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔