ایران کا اسرائیل میں امریکی سفارت خانے پر بھی میزائل حملہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
ایران کے اسرائیل پر میزائل حملوں میں امریکی سفارت خانے کی ایک برانچ کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق، اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے بتایا کہ تل ابیب میں امریکی سفارت خانے کے ایک ذیلی دفتر سے ایرانی میزائل ٹکرایا۔
انھوں نے مزید کہا کہ عملہ مکمل طور پر محفوظ ہے لیکن میزائل لگنے سے سفارت خانے کی عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔
اسرائیل میں امریکی سفیر ہکابی نے مزید کہا کہ اسرائیل میں امریکی سفارت خانہ پیر کے روز بند رہے گا کیونکہ وہاں "شیلٹر ان پلیس" کا حکم تاحال نافذ ہے۔
خیال رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ چوتھے روز میں داخل ہوگئی دونوں جانب حملے وسیع اور شدت اختیار کر گئے ہیں۔
رات گئے ایران نے ایک اسرائیلی آئل ریفائنری کو بھی نشانہ بنایا اور بجلی کے نظام کے کچھ حصے کو نقصان پہنچایا۔
اسرائیل میں اب بھی مختلف مقامات پر دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں اور رہائشی عمارتیں متاثر ہوئیں۔
ایران کے حملوں میں اسرائیل میں ہونے والی ہلاکتیں 24 تک جا پہنچی ہیں جب کہ اسرائیلی حملوں میں ایران کی ٹاپ ملٹری لیڈر شپ سمیت 224 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسرائیل میں امریکی امریکی سفارت سفارت خانے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔