حکومت بلوچستان کا ’ہنگلاج ماتا مندر‘ کو عالمی ٹورازم سائٹ قرار دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
حکومت بلوچستان نے ضلع لسبیلہ میں واقع قدیمی اور تاریخی اہمیت کے حامل ہنگلاج ماتا مندر کو عالمی ٹورازم سائٹ قرار دینے کا فیصلہ کر لیا۔
اس اہم پیش رفت کا اعلان وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور سینیٹر دنیش کمار کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں ہنگلاج ماتا ہندوؤں کا مقدس مقام ’یہاں آنے والوں کی مرادیں پوری ہوتی ہیں‘
ہنگلاج ماتا مندر پاکستان اور بالخصوص بلوچستان میں ہندو برادری کا ایک قدیم اور روحانی مقام ہے، جہاں ہر سال پاکستان سمیت دنیا بھر سے لاکھوں زائرین حاضری دیتے ہیں اس مقام کی مذہبی، ثقافتی اور سیاحتی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت بلوچستان نے اسے عالمی سیاحتی مقام کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ نہ صرف اقلیتی مذہبی سیاحت کو فروغ دیا جا سکے بلکہ بلوچستان کی مثبت شناخت کو بھی عالمی سطح پر اجاگر کیا جا سکے۔
ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہاکہ بلوچستان تمام قومیتوں اور ثقافتوں کا امین خطہ ہے ہنگلاج ماتا مندر بلوچستان کی تہذیب، تاریخ اور رواداری کی علامت ہے اس مقام کو عالمی سیاحتی حیثیت دینا نہ صرف اقلیتی برادری کے اعتماد کا مظہر ہے بلکہ یہ بلوچستان کے پُرامن اور روشن چہرے کو دنیا کے سامنے لانے کی ایک اہم کاوش بھی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ حکومت اقلیتوں کے مذہبی و ثقافتی مقامات کی حفاظت اور ترقی کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے اور آئندہ بجٹ میں ہنگلاج ماتا مندر کی تزئین و آرائش اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے خصوصی فنڈز بھی مختص کیے جارہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں کرتارپور راہداری کی طرز پر بھارتی ہندوؤں کا شاردا مندر تک رسائی کا مطالبہ
اس موقع پر سینیٹر دنیش کمار نے اس فیصلے پر وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ اس اقدام سے پاکستان کے اقلیتی شہریوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہاکہ یہ فیصلہ ہندو برادری کے لیے فخر اور حوصلے کا باعث ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سرفراز بگٹی سینیٹر دنیش کمار ہنگلاج ماتا مندر وزیراعلیٰ بلوچستان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سرفراز بگٹی سینیٹر دنیش کمار وزیراعلی بلوچستان وی نیوز سرفراز بگٹی کے لیے
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔