data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(کامرس رپورٹر)مئیرکراچی بیرسٹر مر تضیٰ وہاب نے کہاہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے قریب پارکنگ پلازہ تعمیرکیلئے بجٹ الاٹ کردیا گیا ہے اورجلداسکی تعمیرکا آغاز ہوجائیگا،مارکیٹ میں نوجوانوں کوروزگار کیلئے آمادہ کرنیکی ضرورت ہے جومحدود سرمائے سے اسٹاک مارکیٹ سے پیسے کماسکتے ہیں، بلدیہ عظمیٰ کراچی اوراسٹاک ایکسچینج ایک دوسرے کی مدد کرکے شہرکی بہتری کیلئے کام کرسکتے ہیں۔ مئیرکراچی نے پیر کی صبح پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں روایتی بیل بجاکرکاروبارکا آغازکرنے کے موقع پر خطاب اور میڈیا سے گفتگو میں کہی۔ مئیر کراچی نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ زیرزمین پانی کے نئے کنکشن کے حوالے سے قانون سازی کی ضرورت ہے، واٹرکارپوریشن پانی کنکشن توکاٹ سکتا ہے لیکن اسے سیلڈ نہیں کرسکتا،جلدسیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ سے پانی ٹریٹ کرکے سائٹ ایریا کی ضرورت کوپوراکریں گے۔ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ میں اسٹاک ایکسچینج 1999سے آرہاہوں،پہلی بار اپنی والدہ کے ساتھ آیا تھا،اس وقت گاڑیاں نہیں تھی بس میں آتے تھ،اس وقت یہاں مینول بولیاں لگتی تھی،میراخیال ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج سرمایہ کاری کاگیٹ وے ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسٹاک ایکسچینج

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا