فتنہ الہندوستان کے مٹھی بھر دہشت گرد بلوچستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتے، ڈی جی آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ کوئی شک نہیں کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، بلوچستان کی عوام پاکستان کے ساتھ مذہب ،ثقافت اور روایات کے رشتوں میں بندھی ہے ۔
جناح یونیورسٹی برائے خواتین کراچی کے دورہ پر ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نےطالبات کو “آپریشن بنیان مرصوص” میں دشمن کے ناپاک ارادوں کو نیست و نابود کرنے پر پاک افواج کی حکمتِ عملی، قربانیوں سے آگاہ کیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “آپریشن بنیان مرصوص”میں پاکستانی عوام بالخصوص طلباء و طالبات نے کلیدی کردار ادا کیا اور بھارتی اسٹریٹجک مفروضوں کو ہمیشہ کے لئے زمین بوس کر دیا ۔
انہوں نے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے مٹھی بھر دہشت گرد بلوچستان کے ساتھ رشتوں کو نقصان نہیں پہنچا سکتے،یونیورسٹی انتظامیہ اور طالبات کی جانب سے پاک فوج کو جنگ میں کامیابی پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
اس موقع پر طالبات نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاک افواج سے ہیں اور پاک افواج عوام سے ہیں، عوام اور افواج کا رشتہ ہمیشہ سے انتہائی مضبوط تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس موقع پر طالبات نے بھرپور جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا اور اس طرح کے مزید سیشنز منعقد کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ایس پی
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔