صدر زرداری کی ایئر ہیڈکوارٹرز میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
—ویڈیو گریب
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں ایئر ہیڈکوارٹرز کا دورہ کرکے پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی ہے۔
صدرِ پاکستان کی جانب سے یہ دورہ پاکستان کی فضائی سرحدوں کے دفاع میں پاک فضائیہ کی شاندار کامیابی، بھارتی جارحیت پر فیصلہ کن ردعمل پر پاک فضائیہ کے افسران و جوانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے کیا گیا۔
صدرِ مملکت کی آمد پر پاک فضائیہ کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔
ملاقات کے دوران ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے صدرِ مملکت آصف زرداری کو پاک فضائیہ کی آپریشنل حکمتِ عملی، فورس اسٹرکچر، اہداف اور مستقبل کی جنگوں کے تناظر میں جاری منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
صدرِ پاکستان کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران پاک فضائیہ کی کامیابی اعلیٰ تربیت، ہمہ وقت آپریشنل تیاری اور مقامی طور پر تیار کردہ جدید جنگی صلاحیتوں کا نتیجہ ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ.
صدر زرداری کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاک فضائیہ نے اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ فل اسپیکٹرم آپریشنز کیے، جن میں خلائی، سائبر اور الیکٹرانک وار فیئر کو مربوط کیا گیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ جدید اور انقلابی ٹیکنالوجیز کے تزویراتی استعمال نے پاکستان کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔
صدرِ مملکت نے پاک فضائیہ کے افسران و جوانوں کی پیشہ وارانہ مہارت، غیر متزلزل عزم اور جذبے کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے حالیہ تنازع کے دوران پاکستان کی خودمختاری اور سرحدوں کے دفاع میں پاک فضائیہ کے فیصلہ کن کردار اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت کو سراہا۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ ایئر چیف کی مدبرانہ قیادت نے پاک فضائیہ کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا، ایئر چیف کی قیادت میں پاک فضائیہ کی آپریشنل تیاری میں نمایاں اضافہ ہوا، خطے میں طاقت کا توازن از سرِ نو ترتیب ہوا، پاکستان کی مسلح افواج کی جری اور دوراندیش قیادت نے بھارتی جارحیت کا بر وقت اور سخت جواب دیا، پاک فضائیہ تکنیکی و تزویراتی میدان میں سب سے آگے رہی۔
صدر مملکت نے پاک فضائیہ کی جنگی تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا، حکومت کی جانب سے پاک فضائیہ کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
بعد ازاں صدر آصف علی زرداری نے نیشنل آئی ایس آر اینڈ انٹیگریٹڈ ایئر آپریشنز سینٹر کا بھی دورہ کیا جہاں انہیں پاک فضائیہ کی مجموعی آپریشنل صلاحیتوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو ا صف علی زرداری نے پاک فضائیہ کی پاک فضائیہ کے پاکستان کی نے پاک
پڑھیں:
سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کا ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئی ہیں، بچیوں کو شہید کیا گیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔ جس طرح رمضان میں آیت اللہ علی خامنہ ای کو، ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں کو شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں، ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشا بڑھ گئی ہے۔ اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دور حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماؤں کی دعاؤں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کو ختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔ آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے فوجی اڈوں کو بند کیا۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔ آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔ وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام کا ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ تھر کے منصوبے سے تھر کے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شیئر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ سی پیک کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکول کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔ سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یو ٹی اور ڈاؤ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔ دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشاء اللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگا کر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایوس نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔