ایران کو غیر مشروط طور پر سرنڈر کرنا ہوگا، ورنہ نیو کلیئر تنصیبات تباہ کر دیں گے، ٹرمپ WhatsAppFacebookTwitter 0 18 June, 2025 سب نیوز

واشنگٹن (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ حملے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے سرنڈر نہ کیا تو اس کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران اب دفاعی لحاظ سے بالکل بے بس ہو چکا ہے اور مذاکرات کی خواہش بھی تاخیر کا شکار ہو چکی ہے۔ امریکی صدر کا دعوی ہے کہ فیصلہ کن لمحہ بہت قریب آ چکا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے دھماکہ خیز بیانات دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اس وقت مکمل طور پر دفاعی صلاحیت سے محروم ہو چکا ہے اور ممکن ہے کہ اس کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے یا شاید نہ بھی۔میڈیا سے گفتگو کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ صحافی پوچھتے ہیں کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر کب حملہ کررہے ہیں، ہمیں بتادیں کب حملہ کریں گے تاکہ ہم وہاں پہنچ جائیں، شاید ہم یہ کریں اور شاید نہ کریں۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران اس وقت شدید دبا اور پریشانی میں ہے اور مذاکرات کی خواہش رکھتا ہے، مگر اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ ایران بات کرنا چاہتا ہے، مگر میں کہتا ہوں پہلے مجھ سے بات کیوں نہیں کی؟ اب آج اور ایک ہفتہ پہلے کے ایران میں بڑا فرق آ چکا ہے۔
انہوں نے دعوی کیا کہ ایران کا فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر ناکارہ ہو چکا ہے، اب ان کے پاس کوئی ایئر ڈیفنس باقی نہیں رہا۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر تنبیہ کی کہ اگر ایران نے غیر مشروط طور پر سرنڈر نہ کیا تو امریکہ اس کی تمام نیوکلیئر تنصیبات کو تباہ کر دے گا۔ ایران کو ہاتھ کھڑے کر کے کہنا ہوگا کہ بہت ہوگیا، میں باز آتا ہوں۔امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے کہا ہے، مجھے ایک فیور دو، سب سے پہلے روس کو ہی بات چیت پر راضی کرو، ایران کو غیر مشروط طور پر سرنڈر کرنا ہے۔ ٹرمپ نے 61 کے ہندسے کو بھی اہم قرار دیا تاہم اس کی وضاحت نہیں کی۔ انہوں نے کہا اگلا ہفتہ بہت اہم ہے، شاید ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں سب کچھ ہو جائے۔
ماضی کی بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایک بار پھر دعوی کیا کہ انہوں نے پاک بھارت جنگ رکوا کر بڑا کام کیا اور پاکستانی عوام کو بہت اچھے لوگ قرار دیا۔آخر میں انہوں نے ایران پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ چالیس سال سے امریکہ مردہ باد اور اسرائیل مردہ باد کے نعرے لگاتے آئے ہیں، مگر اب مزید ڈرا دھمکا نہیں سکتے۔ کیا کسی دشمن ملک کے پاس ایٹمی ہتھیار ہونا چاہئے؟ ایسا ملک کو جو دوسری قوموں کو تباہ کرنا چاہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرریاست کسانوں کیلئے سوتیلی ماں بن چکی ہے، صدر کسان اتحاد ریاست کسانوں کیلئے سوتیلی ماں بن چکی ہے، صدر کسان اتحاد وفاقی کابینہ نے توانائی سیکٹر کا گردشی قرض ختم کرنے کی منظوری دیدی پیرس ائیر شو، پاک چینی دوستی کی پہچان جے ایف 17تھنڈر میں شرکا کی گہری دلچسپی آئندہ بجٹ میں نان فائلروں پر جائیداد اور گاڑی کی خریداری پر پابندیاں لگانے کی تجویز ضم شدہ اضلاع کے 267ارب واجب الادا، وفاق فوری فنڈز منتقل کرے، بیرسٹر سیف کا مطالبہ ایران میں پھنسے 107 پاکستانیوں کو لے کر پی آئی اے کی پہلی خصوصی پرواز اسلام آباد پہنچ گئی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ایران کو تباہ کر

پڑھیں:

ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔

صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔

بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔

اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟
  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام