ایران کا دشمن پر میزائلوں سے جوابی حملہ، کار سوار شہری زخمی
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
ایران نے اسرائیلی جارحیت کیخلاف ’آپریشن وعدہ صادق 3‘ کے تحت مسلسل پانچویں روز اسرائیل پر میزائلوں کی نئی لہر سے جوابی حملہ کیا ہے، اب تک ایک شہری کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔
اسرائیلی مسلح افواج ( آئی ڈی ایف ) نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کے طور پر بیلسٹک میزائلوں کا نیا حملہ کیا گیا ہے، جس کے بعد وسطی اسرائیل سمیت مختلف علاقوں میں شہریوں کے لیے سائرن بجائے گئے ہیں، تاہم تاحال کسی علاقے میں میزائل ٹکرانے یا نقصان پہنچنے کی اطلاعات نہیں ملی ہیں۔
دی ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق میگن ڈیوڈ آڈوم کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ایک روکے گئے بیلسٹک میزائل کا ٹکڑا وسطی اسرائیل کی ایک ہائی وے پر ایک کار سے ٹکرایا، جس کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔
ایم ڈی اے کا کہنا ہے کہ زخمی شخص ہوش میں ہے۔
یمن میں ایران کے اتحادی انصاراللہ (حوثی باغیوں) کے ایک اعلیٰ رہنما نے کہا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھیں گے، جب تک اسرائیلی جارحیت بند نہیں ہوتی اور محاصرہ ختم نہیں کیا جاتا۔
حوثی حمایت یافتہ صدر مہدی المشاط نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ کی حمایت میں ہماری کارروائیاں قربانیوں کے باوجود بند نہیں ہوں گی۔
حوثی ایران کے خودساختہ ’محورِ مزاحمت‘ کا آخری گروپ ہیں، جو باقاعدگی سے اسرائیل پر حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے غزہ میں دوبارہ شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے اسرائیل پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل داغے ہیں، جن سے ہوائی حملے کے سائرن بجے، لیکن عام طور پر کم جانی نقصان ہوا، انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کے پانیوں میں بحری جہازوں پر بھی حملے کیے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔