UrduPoint:
2026-07-24@09:30:46 GMT

تل ابیب اور تہران پر حملوں اور جوابی حملوں کا سلسلہ جاری

اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT

تل ابیب اور تہران پر حملوں اور جوابی حملوں کا سلسلہ جاری

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 18 جون 2025ء) اسرائیل نے تہران کے جنوب مغربی علاقے کے مکینوں کو انخلا کی وارننگ دے دی

پچاس لڑاکا طیاروں نے تہران میں گزشتہ رات بیس سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا

امریکا نے مشرق وسطیٰ میں مزید جنگی طیارے بھیج دیے ہیں

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹیں گے، جب تک ایران کا ایٹمی پروگرام ناکارہ نہ بنا دیا جائے

اسرائیل کی نئی وارننگ

اسرائیل نے تہران کے جنوب مغربی علاقے کے مکینوں کو انخلا کی وارننگ دے دی ہے۔

اطلاعات کے مطابق اسرائیل ان علاقوں میں واقع ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا چاہتا ہے، اس لیے عام شہریوں کے وہاں سے نکل جانے کے لیے انتباہ جاری کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

ایرانی میڈیا کے مطابق تہران اور دیگر بڑے شہروں سے ہزاروں افراد کے انخلا کا سلسلہ جاری ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان ایک دوسرے پر میزائل حملوں کا تبادلہ بدھ کو چھٹے روز بھی جاری ہے۔

ایرانی نیوز ویب سائٹس کے مطابق اسرائیل ایران کے مشرق میں پاسداران انقلاب سے وابستہ ایک یونیورسٹی اور تہران کے قریب ’خجیر‘ بیلسٹک میزائل تنصیب گاہ پر بھی حملے کر رہا ہے۔ اس اہم ایرانی فوجی تنصیب گاہ کو گزشتہ اکتوبر میں بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔

امریکی صدر ٹرمپ کا انتباہ

ایک اسرائیلی فوجی اہلکار کے مطابق پچاس لڑاکا طیاروں نے تہران میں گزشتہ رات بیس سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا۔

امریکی صدر ٹرمپ نے منگل کے روز سوشل میڈیا پر وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا، ’’اب صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔‘‘ انہوں نے لکھا، ’’ہمیں معلوم ہے کہ نام نہاد ’سپریم لیڈر‘ کہاں چھپے ہوئے ہیں۔ ہم فی الحال انہیں ہلاک کرنے نہیں جا رہے لیکن ہمارا صبر ختم ہو رہا ہے۔‘‘

پھر صرف تین منٹ بعد ہی صدر ٹرمپ نے ایک اور پیغام میں لکھا تھا کہ ایران ’’غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دے!‘‘

ٹرمپ کے اسرائیل اور ایران کے مابین فوجی کشیدگی پر بیانات کبھی دھمکی آمیز اور کبھی مصالحتی نظر آتے ہیں، جس سے صورت حال مزید بے یقینی کا شکار ہو گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق ٹرمپ اور ان کی ٹیم مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں ایران کی ایٹمی تنصیبات پر اسرائیل کے ساتھ مل کر مشترکہ حملے کرنا بھی شامل ہے۔

مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی فوجی کمک روانہ

امریکی حکام نے بتایا کہ امریکا نے مشرق وسطیٰ میں مزید جنگی طیارے بھیج دیے ہیں اور پہلے سے موجود طیاروں کی تعیناتی میں توسیع کر دی ہے۔

امریکا اب تک اس تنازعے میں براہِ راست ملوث نہیں ہوا البتہ امریکی فوج نے اسرائیل کی جانب آنے والے ایرانی میزائل مار گرانے میں مدد کی ہے۔

ایران کے علاقائی اثر و رسوخ میں کمی

ناقدین کا کہنا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کے کئی اہم فوجی اور سکیورٹی مشیر اسرائیلی حملوں میں مارے جا چکے ہیں، جس سے ان کا قریبی حلقہ کمزور ہو گیا ہے اور اسٹریٹیجک غلطیوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

اسرائیل کے مسلسل حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے متعدد بھروسہ مند کمانڈرز اور حکمت عملی ساز ہلاک ہو چکے ہیں۔ محسوس ہوتا ہے کہ اپنے قریبی متعمدین سے محروم ہو جانے سے چھیاسی سالہ رہنما اب تنہا پڑتے جا رہے ہیں۔

چھیاسی سالہ، آیت اللہ علی خامنہ ای ایران کو اس کے سب سے خطرناک سیاسی اور دفاعی حالات میں کشتی کو پار لگانے کی کوشش کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں، باوجودیکہ وہ خود اسرائیل کے اہم اہداف میں سے ایک ہیں۔

ان کے کئی اعلیٰ فوجی اور انٹیلیجنس مشیر یا تو ہلاک ہوچکے ہیں یا لاپتہ ہیں، جس نے فیصلہ سازی کے بنیادی مرکز کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور ایسے اقدامات کے خدشات کو جنم دیا ہے جو ممکنہ طور پر ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

اسرائیل کے ایران پر یہ تازہ حملے 1979ء کے بعد ایرانی قیادت پر سب سے سنگین ضرب قرار دیے جا رہے ہیں۔

ایران کا ایٹمی پروگرام ختم کرنا ہے، اسرائیلی وزیر اعظم

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹیں گے، جب تک ایران کا ایٹمی پروگرام ناکارہ نہ بنا دیا جائے۔

ادھر امریکی صدر ٹرمپ کہتے ہیں کہ اگر ایران یورینیم کی افزودگی پر سخت پابندیاں مان لے، تو اسرائیلی حملے بند ہو سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی جوہری توانائی کی ایجنسی (IAEA) نے بھی گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ایران معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور منگل کو اس ایجنسی نے تصدیق کی کہ اسرائیلی حملوں میں نطنز کی زیرِ زمین یورینیم افزودگی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ ایرانی فضائی حدود پر کنٹرول حاصل کر چکا ہے اور آنے والے دنوں میں مہم کو مزید وسعت دے گا۔

تاہم اسرائیل کے لیے پہاڑ کے نیچے قائم فردو جیسے گہرے جوہری مراکز کو تباہ کرنا امریکی تعاون کے بغیر مشکل ہو گا۔

ایرانی حکام کے مطابق گزشتہ چھ روز سے جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران میں تاحال 224 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اسرائیل نے اپنے 24 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نشانہ بنایا اسرائیل کے کو نشانہ نے تہران کے مطابق رہے ہیں رہا ہے ہے اور گیا ہے کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم