آپریشن وعدہ صادق سوم! دسویں لہر کا آغاز، ایران کا اسرائیلی فضاؤں پر کنٹرول کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
آپریشن وعدہ صادق سوم! دسویں لہر کا آغاز، ایران کا اسرائیلی فضاؤں پر کنٹرول کا دعویٰ WhatsAppFacebookTwitter 0 18 June, 2025 سب نیوز
تہران: ایران نے آپریشن وعدہ صادق سوم کی دسویں لہر کا آغاز کرتے ہوئے اسرائیل پر مزید میزائل داغ دیئے جس سے پورے اسرائیل میں خطرے کے سائرن بج اٹھے، ایران کی پاسداران انقلاب نے اسرائیل کے خلاف تازہ حملوں کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے “مقبوضہ علاقوں کی فضاؤں پر مکمل کنٹرول” حاصل کر لیا ہے اور اسرائیلی دفاعی نظام ایرانی حملوں کے آگے بے بس ہو چکا ہے۔
ایران نے آپریشن وعدہ صادق سوم کی دسویں لہر کا آغاز کرتے ہوئے اسرائیلی بیسز پر مزید بیسٹک میزائل داغ دیئے جس سے پورے اسرائیل میں خطرے کے سائرن بج اٹھے، ایران نے تل ابیب پر 20 میزائل داغ دیئے، اسرائیلی حکومت نے شہریوں کو بنکر میں جانے کی ہدایت کردی۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی میزائلوں کی تازہ ترین بارش نے ملک بھر میں فضائی حملے کی وارننگز کو فعال کر دیا ہے جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان جنرل علی محمد نے کہا کہ آپریشن وعدہ صادق سوم کی یہ دسویں لہر ہے جو صبح تک جاری رہے گی، ہم دشمن کو ایک لمحہ کے لئے بھی امن میسر نہیں ہونے دیں گے۔
ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف میجر جنرل سید عبدالرحیم موسوی نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ اسرائیلی جان بچانے کیلئے فوراً حیفہ اور تل ابیب چھوڑ دیں، ایران اسرائیلی حکومت کو اس کے جرائم کی سزا دے کر چھوڑے گا۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران نے امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی تیاریاں مکمل کرلیں۔
امریکی اخبار نے انکشاف کیا کہ امریکی حملوں خصوصاً فردوں پر حملے کی صورت میں ردعمل آئے گا، امریکی اڈوں پر حملہ عراق سے شروع ہوسکتا ہے، ایران آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی حکمت عملی اپنائے گا۔
امریکی اخبار کا مزید کہنا تھا کہ حوثی بحریہ احمر میں جہازوں کو نشانہ بنائیں گے۔
ایران مذاکرات کی میز پر نہ آیا تو پورا ایٹمی پروگرام تباہ ہو سکتا ہے: جرمن چانسلر کی دھمکی
جرمن چانسلر فریڈرک مرز ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ایران مذاکرات کی میز پر نہ آیا تو پورا ایٹمی پروگرام تباہ ہو سکتا ہے۔
جرمن چانسلر فریڈک مرز کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج کے پاس ایرانی ایٹمی پروگرام تباہ کرنے کی صلاحیت موجود نہیں، امریکی فوج کے پاس ایرانی ایٹمی پروگرام تباہ کرنے کی ٹیکنالوجی موجود ہے۔
ایران میں فوجی کارروائیوں سے حکومت کی تبدیلی بڑی غلطی ہو گی: فرانس
فرانس نے کہا ہے کہ ایران میں فوجی کارروائیوں سے حکومت کی تبدیلی بڑی غلطی ہو گی۔
فرانسیسی صدر میکرون کا کہنا ہے کہ حکومت کی تبدیلی سے افراتفری پھیلے گی، ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے معاملات طے کرنے کیلئے مذاکرات کی میز پر آنا چاہئے۔
صدر میکرون کا مزید کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ ہمیں امریکا کی ضرورت ہے تاکہ ہر ایک کو مذاکرات کی میز پر واپس لایا جا سکے۔
ایرانی سپریم لیڈر کا انجام بھی صدام حسین جیسا ہوگا: اسرائیلی وزیر دفاع کی دھمکی
اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ تہران میں فوجی اور حکومتی اہداف پر حملے جاری رہیں گے، ایرانی عوام فوری طور پر تہران چھوڑ دیں۔
اسرائیل نے ایران کے مرکزی بینک پر سائبر حملہ کیا، سائبر حملے کے بعد ایران میں اے ٹی ایمز بند ہوگئیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ ایران کو معاہدے پر دستخط کر دینے چاہئیں، ڈیل سائن کرنے سے متعلق بتا چکا ہوں، انسانی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے جو شرم ناک ہے، متعدد بار کہہ چکا ہوں ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔
امریکی صدر نے جنگوں کی ذمہ داری بائیڈن انتظامیہ پرڈال دی، انہوں نے کہاکہ ہم نے ایران کو 60 دن دیئے تھے مگر اُس نے انکار کر دیا، سب جانتے ہیں اسرائیل بہت اچھا کر رہا ہے، ایران اور اسرائیل کشیدگی کم کرنے کیلئے ہی اکٹھے ہوئے۔
کینیڈا میں جی سیون ممالک کے اجلاس کے موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ کا کیئر سٹارمر کے ساتھ میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ ایران نیوکلیئر ڈیل پر دستخط نہیں کر رہا وہ بے وقوف ہے۔
امریکی صدر نے جی سیون اجلاس میں شمولیت کا دورانیہ مختصر کر دیا، ڈونلڈ ٹرمپ نے ارکان کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کونسل سچویشن روم میں تیار رہے۔
ایران کو کشیدگی کم کرنے پر بات کرنی چاہیے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو کشیدگی کم کرنے پر بات کرنی چاہیے، اس سے قبل کہ بہت دیر ہو جائے۔
جی سیون اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ایران کو ہر حال میں مذاکرات کی طرف آنا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران یہ جنگ نہیں جیت رہا، ایرانی حکام کشیدگی میں کمی کے لیے بات چیت کرنا چاہیں گے۔
انہوں نے کہاکہ ایران کے ساتھ ہمارا کوئی معاہدہ نہیں ہے انہیں ایک معاہدہ کرنا ہوگا، ایران کے پاس 60 دن تھے، 61 ویں دن میں یہ ہونا ہی تھا، جنگ دونوں فریقوں کے لیے تکلیف دہ ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاک-امریکا تعلقات میں غیر معمولی پیشرفت؛ امریکی صدر کا فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اعزاز میں ظہرانہ پاک-امریکا تعلقات میں غیر معمولی پیشرفت؛ امریکی صدر کا فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اعزاز میں ظہرانہ ایران کے خلاف اسرائیل کی فوجی کارروائی سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، چینی صدر روس کی ایران ، اسرائیل جنگ میں ثالثی اور ایرانی افزودہ یورینیم کو اپنے ملک میں محفوظ رکھنے کی پیشکش مجھ میں اور شہباز میں کوئی فرق نہیں، وزیراعظم کوئی بھی ہو فرق نہیں پڑتا ،ہم ایک ہیں، نواز شریف ہمیں پتا ہے ایرانی سپریم لیڈر کہاں ہیں لیکن ابھی نشانہ نہیں بنانا چاہتے ، ٹرمپ کا دعویٰ ایران جوہری بم بنارہا تھا اور نہ فوری طور پر بم بنانے کے قابل تھا، امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹ ، ٹرمپ کا ماننے...
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: دسویں لہر کا ا غاز
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔