ایران کی جنگ کے باعث آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران نے اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے پیش نظر خبردار کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی سکیورٹی کمیشن کے رکن اسماعیل کوثری نے مقامی میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ تہران آبنائے ہرمز کی بندش کے امکان کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ایران نے ایسی وارننگ دی ہو۔ ماضی میں بھی ایران نے جوابی اقدام کے طور پر آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکیاں دی ہیں، جو بین الاقوامی تجارت کو متاثر کرنے اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا باعث بنی ہیں۔
آبنائے ہرمز، جو خلیج فارس اور خلیج عمان کو آپس میں ملاتی ہے، دنیا بھر میں تیل کی تقریباً 3 فیصد اور قدرتی گیس (ایل این جی) کی 5 فیصد ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ جنگ کے تناظر میں، یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل اور تجارت کے لیے شدید خطرات کا شکار ہو گئی ہے۔
عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق، آبنائے ہرمز کی بندش کی صرف دھمکی ہی عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں ہلچل مچانے کے لیے کافی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔