data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر)عالمی سروے میں کراچی ایک بار پھر دنیا کے ’ناقابل رہائش شہروں‘ میں شامل ہوگیا ہے، اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ (ای آئی یو) کے گلوبل سروے کراچی کا آخری 5 شہروں میں شامل ہونا شہر کو درپیش گہرے اور مسلسل بحران کی عکاسی کرتا ہے۔دنیا بھر کے 173 شہروں میں سے کراچی کا 170 ویں نمبر پر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کراچی صرف ڈھاکا، طرابلس اور دمشق سے کچھ ہی بہتر ہے، اور یہ صحت، انفرااسٹرکچر، تعلیم، ماحول اور استحکام جیسے 5 بنیادی شعبوں میں ناقص کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے۔انتہائی ناقص درجہ بندی کے باوجود کراچی واحد پاکستانی شہر تھا جو اس فہرست میں شامل ہوا۔سرفہرست کوپن ہیگن کا اسکور 98 رہا، ویانا اور زیورخ نے 97.

1 کے اسکور کے ساتھ دوسرا نمبر حاصل کیا، اس کے بعد میلبورن 97.0 کے اسکور کے ساتھ اور جنیوا 96.8 کے اسکور کے ساتھ رینکنگ میں شامل ہوئے۔اس سالانہ سروے کا مقصد کمپنیوں کو اپنے ملازمین کو دوسری جگہوں پر منتقل کرتے وقت مشکلات کے الاؤنسز کا اندازہ لگانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔دی اکانومسٹ کے مطابق یہ سروے صحت کی سہولتوں، ثقافت و ماحول، تعلیم، انفرااسٹرکچر اور استحکام جیسے پانچ زمروں میں 173 شہروں کی درجہ بندی کرتا ہے۔گزشتہ سال کی درجہ بندی میں کراچی کی حالت لاگوس، طرابلس، الجزائر اور دمشق جیسے شہروں کے برابر تھی، اس سے پچھلے سال کراچی 173 ممالک میں سے 169 ویں نمبر پر تھا۔گزشتہ اکتوبر میں، ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے کہا تھا کہ پاکستان میں شہروں کی رہنے کے قابل حالت (livability) کم ہو رہی ہے، اور شہری مراکز غیر مؤثر ہوتے جا رہے ہیں، جہاں کئی مسابقتی انڈیکسز میں کم اسکور ملے ہیں، جن میں بھیڑ، بدصورتی اور آلودگی شامل ہیں۔اے ڈی بی کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ کراچی میں طبقاتی تقسیم ایک بڑا مسئلہ ہے کیوں کہ اشرافیہ کی اکثریت کنٹونمنٹ علاقوں یا نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں رہتی ہے، جب کہ کم آمدنی والے افراد کو شہر کے سب سے بڑے ضلع، کراچی ایسٹ میں دھکیلا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق شہر مذہبی اور نسلی بنیادوں پر مزید تقسیم ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے ماضی میں کئی بار پرتشدد جھڑپیں ہو چکی ہیں۔کراچی پاکستان کا واحد شہر ہے جو کسی حد تک عمودی طور پر پھیل رہا ہے، کیوں کہ زمین محدود ہے اور رہائش کی فوری ضرورت ہے۔جولائی میں، فوربز ایڈوائزر کی ایک فہرست کے مطابق کراچی کو سیاحوں کے لیے دوسرا سب سے زیادہ خطرناک شہر قرار دیا گیا تھا، جس کا اسکور100 میں سے 93.12 تھا۔درجہ بندی کے مطابق، کراچی میں ذاتی تحفظ کا خطرہ سب سے زیادہ تھا، جس میں جرائم، تشدد، دہشتگردی کے خطرات، قدرتی آفات اور اقتصادی کمزوریاں شامل ہیں۔فہرست میں کہا گیا کہ کراچی کو امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے دوسرا بدترین (سطح 3، سفر پر نظر ثانی کریں) سفر کا تحفظ درجہ حاصل ہے، مزید یہ بھی کہا گیا کہ شہر میں انفرااسٹرکچر کی سلامتی کا چوتھا بدترین درجہ ہے، جو شہر کے بنیادی ڈھانچے کی دستیابی اور معیار کو ظاہر کرتا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کرتا ہے

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

عالمی منڈی میں جمعہ کو خام تیل (Crude Oil)کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم مجموعی طور پر ہفتہ وار بنیادوں پر تیل کی قیمتیں نمایاں اضافے کی جانب بڑھتی رہیں۔ بحیرۂ احمر میں آئل ٹینکروں پر حملوں اور قازقستان سے تیل کی برآمدات میں رکاوٹ نے عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

کاروباری سیشن کے دوران برینٹ خام تیل (Brent Crude) کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کرتے ہوئے 100.12 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس سطح پر پہنچی ہے۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 92 ڈالر فی بیرل جبکہ اماراتی مربن آئل (Murban Crude) 107.30 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہوا۔

مارکیٹ میں تیزی کی ایک بڑی وجہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بحیرۂ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان حملوں کے بعد سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اگر باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ راستہ آبنائے ہرمز کے بعد دنیا میں خام تیل کی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں ایسے کسی بھی حملے کی ذمہ داری ایران پر عائد کی جائے گی۔ دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کر رکھا ہے، جبکہ مختلف اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں باب المندب کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔

مزیدپڑھیں:پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ

ادھر قازقستان (Kazakhstan) کی وزارتِ توانائی نے بتایا کہ مشتبہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد ملک کی ایک اہم برآمدی تنصیب عارضی طور پر بند ہونے سے خام تیل کی پیداوار کم کر دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق کیسپین پائپ لائن کنسورشیم (Caspian Pipeline Consortium – CPC) نے ٹرمینل پر حملوں کے باعث قازقستان سے خام تیل کی وصولی عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ یہ پائپ لائن عالمی سطح پر یومیہ خام تیل کی تقریباً دو فیصد سپلائی سنبھالتی ہے، جبکہ ایک ذریعے کے مطابق قازقستان کے سب سے بڑے آئل فیلڈ کی پیداوار بھی نصف سے کم کر دی گئی ہے۔

توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور قازقستان سے سپلائی میں رکاوٹ کے باعث عالمی تیل مارکیٹ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں پر اضافے کا دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا