کراچی کی 20 مرکزی سڑکوں پر رکشوں کے داخلے پر پابندی میں مزید دو ماہ کی توسیع
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: کمشنر کراچی حسن نقوی نے شہر کی ٹریفک روانی کو بہتر بنانے کے لیے 3 اور 5 سیٹر رکشوں کے داخلے پر عائد پابندی میں مزید دو ماہ کی توسیع کردی ہے، یہ فیصلہ ڈی آئی جی ٹریفک کی درخواست پر کیا گیا ہے جس کے تحت شہر کی 20 مرکزی سڑکوں کو رکشہ فری زون قرار دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کمشنر کراچی کو ڈی آئی جی ٹریفک کی جانب سے یہ تجویز دی گئی تھی کہ شہر میں بڑھتی ہوئی ٹریفک کے پیش نظر ان سڑکوں پر کمرشل بنیادوں پر چلنے والے رکشوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے تاکہ ٹریفک کی روانی کو بہتر بنایا جا سکے۔
اس حوالے سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق جن سڑکوں پر یہ پابندی برقرار رہے گی ان میں شامل ہیں،شاہراہ فیصل، شاہراہ قائدین، آئی آئی چندریگر روڈ، شیرشاہ سوری روڈ، شہید ملت روڈ، عبداللہ ہارون روڈ، دو تلوار سے شاہراہ فردوس، اسٹیڈیم روڈ، سر شاہ سلیمان روڈ، راشد منہاس روڈ، ماڑی پور روڈ، شاہراہ پاکستان، حب ریور روڈ، قائد آباد تا لانڈھی 89، یونیورسٹی روڈ، کورنگی روڈ، اورنگی روڈ، سپر ہائی وے سے ملیر ہالٹ، اور سرجانی تا عبداللہ چوک۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ ان راستوں پر 3 سیٹر اور 5 سیٹر رکشوں کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع ہوگا اور اس پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا۔
یاد رہے کہ ابتدائی طور پر یہ پابندی دو ماہ کے لیے نافذ کی گئی تھی، تاہم اس کی مدت میں اب مزید دو ماہ کا اضافہ کردیا گیا ہے، متعلقہ ٹریفک حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور خلاف ورزی کرنے والے رکشہ ڈرائیوروں کے خلاف کارروائی کریں۔
شہریوں نے اس فیصلے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے، جہاں کچھ افراد نے اسے ٹریفک روانی کے لیے مفید قرار دیا، وہیں رکشہ ڈرائیوروں اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے اسے روزگار پر ضرب قرار دیتے ہوئے اس پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.