آبنائے ہرمز میں بھارتی کمپنی کا خالی آئل ٹینکر چین جانے والے تیل سے بھر ے آئل ٹینکر سے ٹکرا گیا، خطے میں مزید کشیدگی کا خطرہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
دنیا کی سب سے اہم تیل گزرگاہ آبنائے ہرمز کے قریب دو بڑے آئل ٹینکرز آپس میں ٹکرا گئے۔ ایڈالین اور فرنٹ ایگل کے درمیان یہ تصادم متحدہ عرب امارات کے ساحل سے تقریباً 15 ناٹیکل میل (28 کلومیٹر) دور خلیج عمان میں پیش آیا۔
برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی مانیٹر نے کہا ہے کہ یہ واقعہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے بیچ پیش آیا، تاہم یہ سیکیورٹی سے متعلق واقعہ نہیں ہے۔ایڈالین پر سوار 24 افراد کو متحدہ عرب امارات کی کوسٹ گارڈ نے بحفاظت نکال لیا۔
حکام کے مطابق، کسی قسم کی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔فرنٹ ایگل بحری جہاز دو ملین بیرل عراقی خام تیل لے کر چین کی جانب رواں دواں تھا، جبکہ ایڈالین جو بھارت میں قائم کمپنی کی ملکیت ہے، خالی تھا اور مصر کے سویز کینال کی جانب جا رہی تھی۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ “سیکیورٹی سے متعلق نہیں” ہے، لیکن اس دوران الیکٹرانک مداخلت، بحری افواج کی نقل و حرکت میں اضافہ، اور خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے عندیے پہلے ہی موجود ہیں، جس کے بعد کئی جہاز پہلے ہی متبادل راستے اختیار کرنے لگے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔