Islam Times:
2026-06-03@04:39:06 GMT

دنیا امریکا کے بغیر بھی آگے بڑھ سکتی ہے، چین

اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT

دنیا امریکا کے بغیر بھی آگے بڑھ سکتی ہے، چین

سوشل میڈیا پر ​​​​​​​چینی صدر کے مطابق نپولین نے خود کو لازوال قرار دیا تھا، چار سو سال پہلے، ہسپانوی تخت و تاج منیلا سے میکسیکو تک حکومت کر رہا تھا، اس کے خزانے چاندی اور ریشم سے بھرے ہوتے تھے، ہسپانوی بادشاہ سمجھتے تھے کہ ان کی عظمت ہمیشہ باقی رہے گی، ہر سلطنت نے خود کو ناگزیر سمجھا لیکن ہر ایک کا سورج غروب ہوا۔ اسلام ٹائمز۔ چینی صدر شی جن پنگ کے سرکاری کامینٹری اکاؤنٹ سے ایک پیغام جاری کیا گیا ہے کہ دنیا امریکا کے بغیر بھی آگے بڑھ سکتی ہے، اگر امریکا دنیا کا احترام کھو بیٹھا ہے تو وہی سبق سیکھے گا جو ہر زوال پذیر سلطنت نے بہت دیر سے سیکھا، کہ دنیا کسی کےلیے نہیں رکتی، ہمیشہ آگے بڑھتی رہتی ہے۔ چینی صدر کے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس اکاؤنٹ پر تحریر جاری کی گئی ہے کہ سو سال پہلے، برطانوی سلطنت عالمی تجارت پر چھائی ہوئی تھی اور دنیا کی 20 فیصد دولت اس کے پاس تھی، لوگ سمجھتے تھے اس کا سورج کبھی نہیں ڈھلے گا۔ تحریر میں لکھا گیا ہے کہ دو سو سال پہلے، فرانس یورپ کے افق پر چھایا ہوا تھا، اس کی افواج سے لوگ ڈرتے تھے، اس کی ثقافت قابلِ رشک تھی۔

چینی صدر کے مطابق نپولین نے خود کو لازوال قرار دیا تھا، چار سو سال پہلے، ہسپانوی تخت و تاج منیلا سے میکسیکو تک حکومت کر رہا تھا، اس کے خزانے چاندی اور ریشم سے بھرے ہوتے تھے، ہسپانوی بادشاہ سمجھتے تھے کہ ان کی عظمت ہمیشہ باقی رہے گی، ہر سلطنت نے خود کو ناگزیر سمجھا لیکن ہر ایک کا سورج غروب ہوا۔ ایکس پیغام میں لکھا گیا ہے کہ طاقت کمزور پڑ جاتی ہے، اثر و رسوخ بدل جاتا ہے اور قانونی حیثیت اسی لمحے دم توڑ دیتی جب اسے حاصل کرنے کے بجائے خود پر فرض کر لیا جائے۔ چینی صدر نے کہا ہے کہ اگر امریکا دنیا کا احترام کھو بیٹھا، تو وہی سبق سیکھے گا جو ہر زوال پذیر سلطنت نے بہت دیر سے سیکھا ہے کہ دنیا کسی کے لیے نہیں رکتی، ہمیشہ آگے بڑھتی رہتی ہے۔  

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سو سال پہلے نے خود کو چینی صدر

پڑھیں:

گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟

گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔

ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔

جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔

مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟

گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟

کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار