WE News:
2026-07-24@11:35:44 GMT

عوام کو سیونگ اکاؤنٹس منافع پر کتنا ٹیکس دینا ہوگا؟

اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT

عوام کو سیونگ اکاؤنٹس منافع پر کتنا ٹیکس دینا ہوگا؟

وفاقی بجٹ 2025 میں حکومت نے سیونگ اکاؤنٹس پر منافع کے ٹیکس میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس پر لاکھوں پاکستانیوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔نئے مالی سال کے بجٹ کے مطابق:

فائلرز کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کر دی گئی ہے۔ نان فائلرز کے لیے یہ شرح 30 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد کر دی گئی ہے۔

عوام کی بچت اور سرمایہ کاری متاثر

بینکاری ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف عوام کی بچت متاثر ہوگی بلکہ سرمایہ کاری کے رجحانات بھی بدل سکتے ہیں۔

نیشنل بینک، راولپنڈی کے ریلیشن شپ آفیسر محمد عمر کیانی کے مطابق سیونگ اکاؤنٹس پر 5 فیصد اضافی ٹیکس کے باعث بے شمار لوگ متاثر ہوں گے، خصوصاً پنشنرز اور درمیانی آمدنی والے شہری، جو اپنی محدود بچت کو محفوظ رکھنے کے لیے سیونگ اکاؤنٹس استعمال کرتے ہیں۔

متبادل ذرائع کی تلاش

محمد عمر کا کہنا تھا کہ اب بہت سے لوگ بینک سے رقم نکال کر سونا، پراپرٹی یا دیگر متبادل ذرائع کی طرف رجوع کریں گے تاکہ بہتر منافع حاصل کر سکیں۔

بینکنگ سسٹم پر اعتماد کم ہونے کا خطرہ

میزان بینک کی فنانشل کنسلٹنٹ سدرہ علی کے مطابق شرح سود میں کمی کے بعد متعدد افراد پہلے ہی اپنی رقوم نکال چکے ہیں۔ اب ٹیکس کی شرح میں اضافے سے بینکنگ سسٹم پر اعتماد مزید متاثر ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے کلائنٹس اپنی فکسڈ ڈپازٹس (FD) ختم کر کے نان بینکنگ سرمایہ کاری جیسے رئیل اسٹیٹ یا اسٹاک مارکیٹ کی طرف جا رہے ہیں، خاص طور پر جب حکومت نے رئیل اسٹیٹ پر ٹیکس میں نرمی کی ہے۔

ٹیکس نیٹ کے بجائے موجودہ فائلرز پر بوجھ

حبیب بینک لمیٹڈ کے برانچ مینیجر رانا عمیر کا کہنا ہے کہ حکومت نے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے بجائے موجودہ فائلرز پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے، جو نہ صرف بچت کو متاثر کرے گا بلکہ طویل المدتی مالی منصوبہ بندی بھی متاثر ہوگی۔

انہوں نے تجویز دی کہ صارفین کا اعتماد بحال رکھنے کے لیے متبادل سیونگ پراڈکٹس متعارف کروانا ہوں گی۔

’اگر اتنا ٹیکس دینا ہے تو پیسہ بینک میں کیوں رکھیں؟‘

ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو بینکوں میں ڈپازٹس کی شرح کم ہو سکتی ہے، جس سے ملکی مالیاتی پالیسی پر بھی دباؤ پڑے گا۔

راولپنڈی کے رہائشی طارق رشید نے بتایا کہ انہوں نے اپنی کچھ زمین بیچ کر سیونگ اکاؤنٹ میں رقم رکھی تھی تاکہ منافع سے روزمرہ اخراجات اور بیٹیوں کی شادیوں کا بندوبست کر سکیں۔ لیکن اب وہ شدید مایوسی کا شکار ہیں۔

منافع کم، اخراجات زیادہ

طارق رشید کا کہنا تھا، پہلے شرح سود کم ہوئی، اب ٹیکس بڑھ گیا۔ اب سوچ رہا ہوں مکان خرید کر ایک حصہ خود رکھوں اور دوسرا کرائے پر دے دوں۔ کم از کم کمیٹی ڈال کر گھر کے اخراجات سنبھال سکوں گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سیونگ اکاؤنٹس کا کہنا کے لیے

پڑھیں:

ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان

اسلام آباد:

ایف بی آر نے انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان کردیا۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اعلان کیا ہے کہ ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کا باقاعدہ آغاز 27 جولائی سے ہوگا۔ ترجمان کی جانب سے تمام ٹیکس دہندگان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ٹیکس گوشوارے درست، مکمل اور دیانتداری کے ساتھ جمع کرائیں تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

ترجمان ایف بی آر کے مطابق ٹیکس ریٹرن میں فراہم کی جانے والی تمام معلومات درست اور حقیقت پر مبنی ہونا ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ٹیکس دہندہ اس بات کو یقینی بنائے کہ گوشوارے میں درج تمام تفصیلات حقائق کے مطابق ہوں تاکہ شفافیت اور درستگی برقرار رہے۔

ایف بی آر کے ترجمان نے کہا کہ بروقت اور درست ٹیکس گوشوارے مضبوط ٹیکس نظام کے قیام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس دہندگان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقررہ طریقہ کار کے مطابق اپنے ریٹرن بروقت جمع کرائیں اور معلومات کی درستگی کا خاص خیال رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف