Daily Ausaf:
2026-07-24@13:07:45 GMT

مالی سال 2025-26کیلئے عوام دوست، تاریخ ساز ، ٹیکس فری بجٹ

اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT

جذبہ خدمت سے سرشار، ہمدرد وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی مدبرانہ قیادت میںمالی سال 2025-26کیلئے 5335ارب روپے کا تاریخ ساز بجٹ پیش کیا گیاہے۔بجٹ کے عوام دوست ہونے کا اندازہ اس امرسے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں کسی قسم کا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پنجاب اور پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈویلپمنٹ بجٹ ہے ۔ ڈویلپمنٹ کے لئے 1240ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ ہیلتھ او رایجوکیشن کے لئے پہلی مرتبہ 27فیصد بجٹ مختص کیاگیا ہے اورپبلک انویسٹمنٹ کے لئے مجموعی طور پر 73فیصد بجٹ مختص کرنے کا ریکارڈبھی بن چکا ہے۔بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصدجبکہ پنشن میں پانچ فیصد اضافہ مقرر کیا گیا ہے ۔
صحت کیلئے 630.

5ارب روپے،تعلیم کیلئے 811.8 ارب، لوکل گورنمنٹ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے لئے 411.1 ارب،پولیس کے لئے 210.1ارب، ہاؤسنگ اینڈ پبلک ہیلتھ 245.7، روڈز 120ارب، ٹرانسپورٹ کے لئے 141.5،زراعت کے لئے 129.8، انوائرمنٹ پروٹیکشن 16.6، جنگلات،وائلڈ لائف اور فشریریز 36 ارب،مفت ادویات 79.5ارب، نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ 61ارب، اپنی چھت، اپنا گھر کے لئے 50ارب،رمضان پیکیج کیلئے 35، ای بس 46ارب، گورننس اینڈ آئی ٹی 35ارب، ای ٹیکسی 3.5ارب،لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام کیلئے 85ارب، پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام25ارب مختص، ماڈل ویلیج کے لئے 10ارب مختص،سی ایم ٹریکٹر کے لئے ساڑھے 15ارب، سرکاری یونیورسٹیوں کے لئے 18ارب، ہونہار سکار شپ 15 ارب، سکولوں کے لئے 40ارب روپے مختص،کلینک آن ویل کے لئے ساڑھے تین ارب، ہیلتھ کلینک 9.7ارب، نواز شریف کینسر ہسپتال کے لئے ساڑھے 14ارب مختص،مراکز صحت کے لئے 18.3ارب، جناح انسٹی ٹیوٹ کارڈیالوجی 9.4 ارب، نوازشریف انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سرگودھا ساڑھے 4ارب،چلڈرن ہسپتال راولپنڈی کے لئے 6ارب، ہیلتھ انشورنس 25ارب روپے مختص،ٹرانسپلانٹ پروگرام کے لئے 3.6ارب،چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کے لئے 3.2ارب، ڈائیلسز پروگرام 8.6ارب،آسان کاروبار کے لئے6.2ارب،فیصل آباد، لاہور اور گوجرانوالہ کے ماس ٹرانزٹ پراجیکٹس 28ارب،زرعی ٹیوب،کسان کارڈ کے لئے 15ارب، آبی ذخائرکے لئے 20ارب،سیف سٹی پراجیکٹ کے لئے 11.5 ارب، فلم فنانس فنڈ کے لئے 5ارب، سی ایم پنجاب لوکل روڈ پروگرام کے لئے 50ارب،مینارٹی کارڈ کے لئے 3.6ارب، لیپ ٹاپ پروگرام 15ارب، راشن کارڈ 40ارب، سہولت بازارکے لئے 10ارب،مفت کتابوں کے لئے 9.4ارب اور سکول میل پروگرام کے لئے 7ارب روپے رکھنے کی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کے خصوصی احکامات کے تحت پنجاب بھر کے مزدوروں کی فلاح و بہبود یقینی بنانے کیلئے 37ہزار سے بڑھا کر کم از کم اجرت 40ہزار مقررکر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب بھرمیں ہر قسم کی اجرت کی ادائیگی کوڈیجیٹلائز کرنے کے احکامات بھی صاد ر کئے جا چکے ہیں۔ مالی سال 2025-26کے تحت پنجاب میں 100نئے اختراعی پروگرام اور پراجیکٹس کا آغاز کیا جارہا ہے ، 700 سڑکیں بن رہی ہیں،12ہزار کلو میٹرروڈز کی تعمیر و توسیع بڑا ریکارڈ ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کے عوام دوست ویژن کے تحت شعبہ صحت اور تعلیم کیلئے سب سے زیادہ بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ فری میڈیسن ہر جگہ ملیں گی، سکولوں میں ضروری سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جا ئیں گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کے مطابق ٹیکس بڑھانا آسان ہے لیکن ٹیکس بڑھانے کی بجائے ٹیکس نیٹ پر توجہ دیں گے، دو چار بڑے پراجیکٹ بنا دیں تو لگتا ہے بڑا کام ہوا ہم100نئے پروگرام لیکر آئے ہیں ۔40ہزار سے زائد گھر 40سال میں بھی نہیں بن سکے،ہر ڈیپارٹمنٹ سے متعلق اعداد وشمار زبانی یاد ہیں، 2025-26کا بجٹ ملک کی تاریخ کا لاثانی بجٹ ثابت ہوگاسرکاری ملازمین کو کارکردگی کی بنیاد پر ایڈیشنل پرفارمنس بونس دینے کا جائزہ لیں گے، مزدور کی کم از کم اجرت 40ہزار،اجرتوں کا سسٹم ڈیجیٹلائز ہونا چاہیے۔پنجاب میں مقامی قرضوں کی شرح میں 94فیصد ریکارڈ کمی آئی ہے۔میسر وسائل سے عوام کی خدمت کررہے ہیں۔ کامیابی نیت اور محنت سے ملتی ہیں، اس سال گزشتہ برس سے بھی زیادہ محنت کریں گے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ الحمدللہ سب سے بڑا ترقیاتی فنڈ ہونے کے باوجود کوئی مالیاتی سکینڈل سامنے نہیں آیا۔پائی پائی عوام کی امانت،اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہیں، کامیابی نیت اور محنت سے ملتی ہے۔حکومت پنجاب ماحول سے متعلق ہر چیلنج کا بھرپورادارک رکھتی ہے۔پنجاب بھر میں آبی قلت کے شکار علاقوں کی جیو ٹیگنگ کیلئے بجٹ2025-26میں خصوصی فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔بنجر زمینوں کو سرسبز بنانے کیلئے پلانٹ فار پاکستان مہم کامیابی سے جاری، ماحولیاتی تحفظ اور قدرتی وسائل کی بہتر مینجمنٹ کیلئے خصوصی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی، درختوں کی بے ہنگم کٹائی اور آبی قلت زرعی وسائل کی زرخیزی تیزی سے متاثر کررہی ہے۔ حکومت پنجاب ماحول سے متعلق ہر چیلنج کا بھرپور ادارک رکھتی ہے۔ خشک سالی صرف ریت کی بڑھتی ہوئی تہوں کا نام نہیں بلکہ بحران کی پیشگی علامت ہے۔ پنجاب بھر میں آبی قلت کے شکار علاقوں کی جیوٹیگنگ کے لئے بجٹ2025-26میں خصوصی فنڈز مختص کیے ہیں۔ پنجاب بھر نئے فلٹریشن پلانٹ لگانے اور موجودہ پلانٹس کی مرمت کا ٹاسک مکمل کیا جائے گا۔ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے پاکستان کی پہلی جامع کلائیمٹ پالیسی متعارف کرائی گئی۔ بنجر زمینوں کو سرسبز بنانے کے لئے پلانٹ فار پاکستان مہم کامیابی سے جاری ہے۔
عوامی سطح پر مالی سال 2025-26کے بجٹ کو پزیرائی مل رہی ہے۔ عوام کیلئے صحت، تعلیم، زراعت، انفراسٹرکچر ،سماجی تحفظ ،اپنی چھت، اپنا گھر پروگرام سمیت متعدد اقدامات اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صدق دل سے خدمت کے کاررواں کو تیز تر چلا رہی ہیں۔ پنجاب کے ہر شہر، دیہات اور نگر میں حکومت پنجاب کے تاریخ ساز اقدامات کا آغاز ہو چکا ہے، یہ زبانی جمع پونجی نہیں بلکہ یہ ہے عوام دوست مثبت تبدیلی ہے جس کی وجہ سے ہر چہرا مسکرا رہا ہے، ہر فرد کے خوابوں کو تعبیر مل رہی ہے، ہر سو خوشحالی کا دور ہ
ہے ، خدمت کیلئے جذبہ و جنون ہے۔ حالیہ کارکردگی دیکھتے ہوئے یہ بات کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ عوام کا مستقبل روشن اور پنجاب کا مستقبل تابناک ہے کیونکہ پنجاب مثالی کارکردگی کی بدولت دیگر صوبوں کی رول ماڈل بن چکا ہے۔
تحریر:محمد ذکریا رائے

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: پنجاب مریم نواز پروگرام کے لئے عوام دوست نواز شریف سال 2025

پڑھیں:

کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم

— فائل فوٹو 

سندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔

عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔

عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔

کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔

اصل ملزمان کو بچانے کیلئے اسسٹنٹ ایکسائز افسر کو نامزد کیا گیا، وکیل

کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...

جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی