’ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے ریکارڈ بجٹ مختص‘، مریم اورنگزیب کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام 26-20025 میں ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے 64 فیصد بجٹ مختص کیا گیا ہے، جو ایک تاریخی قدم ہے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ کا مجموعی حجم 1240 ارب روپے ہے، جس میں سے 371.
مزید پڑھیں: پنجاب بجٹ اجلاس: عظمیٰ بخاری کو نازیبا اشارے کرنے پر انکوائری کا حکم
سینئر وزیر کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے تمام شعبوں میں مربوط حکمت عملی اپنائی ہے اور حکومتی سطح پر اجتماعی سوچ کے تحت فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم مجموعی ماحولیاتی بہتری کا ہدف حاصل کرنے کے لیے ہر شعبے میں بہتری لائیں گے۔
مریم اورنگزیب کے مطابق 65.172 ارب روپے ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کی استعداد بڑھانے پر خرچ کیے جائیں گے، جب کہ 269.479 ارب روپے ٹرانسپورٹ کے شعبے کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ عوامی آگاہی اور شعور اجاگر کرنے کے لیے بھی خاطرخواہ رقم مختص کی گئی ہے، جس کا حجم 95.285 ارب روپے بتایا گیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئندہ مالی سال میں حکومت ہر شعبے میں ریکارڈ ترقیاتی کام کرے گی، اور ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سنگ میل عبور کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب سالانہ ترقیاتی پروگرام ماحولیاتی خطرات مریم اورنگزیب
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب سالانہ ترقیاتی پروگرام ماحولیاتی خطرات مریم اورنگزیب ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے مریم اورنگزیب ارب روپے مختص کی
پڑھیں:
سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
فائل فوٹوسندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں تیز ہوائیں، طوفان اور بارش ہوئی ہے جس سے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوگئی۔
خیبرپختونخوا میں مختلف حادثات میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
سندھ کے علاقے تھرپارکر میں بارش، سکھر میں ژالہ باری، لاڑکانہ، حیدرآباد، مٹیاری، ہالہ، نیو سعیدآباد، شکارپور اور کندھ کوٹ میں مٹی کا طوفان آیا ہے۔
اسلام آباد، لاہور، جہلم، سرگودھا، گجرات، رحیم یار خان، چنیوٹ سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں بارش ہوئی۔
تیز ہوا کے باعث لوئر کرم میں بجلی کی مین لائن کا ٹاور گر گیا، پاراچنار اور اس کے ملحقہ علاقوں اور پاک افغان سرحدی دیہات کی بجلی بند ہوگئی۔