کلبز لوگوں کی عیاشی کیلئے ہیں‘، چیئرمین ایف بی آر، بڑے کلبز پر ٹیکس لگانے کی تجویز منظور
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
کلبز لوگوں کی عیاشی کیلئے ہیں‘، چیئرمین ایف بی آر، بڑے کلبز پر ٹیکس لگانے کی تجویز منظور WhatsAppFacebookTwitter 0 18 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے ملک کے بڑے کلبز پر ٹیکس لگانے کی تجویز منظور کرلی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا جس میں چیئرمین ایف بی آر نے بریفنگ دی۔
اس موقع پر چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ اسلام آباد کلب سمیت کئی کلب 3 ہزارلوگوں کی عیاشی کےلیے بنے ہیں، بڑےبڑےکلبوں نے اربوں روپے اپنے اکاؤنٹس میں رکھے ہوئے ہیں۔
چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ ایک ایک ملین ڈالر کی زمین ہے، چند لوگ عیاشی کررہے ہیں، کسی بھی کلب کے منافع پر ٹیکس لگایا جائےگا۔
اجلاس میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے ملک کے بڑے بڑے کلبز پر ٹیکس لگانے کی تجویز منظور کی۔
اس کے علاوہ چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کو بتایا کہ آئندہ بجٹ میں 6 لاکھ روپے سالانہ انکم ٹیکس چھوٹ کی تجویز ہے، 6 سے 12 لاکھ روپےسالانہ آمدن پرٹیکس2.
اس موقع پر سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ انکم ٹیکس چھوٹ کی سالانہ حد 12 لاکھ روپےہونی چاہیے جب کہ سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ آج 50 ہزار روپے کی ویلیو 42 ہزار روپے ہوچکی ہے۔
اجلاس میں اراکین نے آن لائن کامرس پر ٹیکس لگانے کی تجویز مستردکردی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایران-اسرائیل جنگ رکوانے کیلئے عالمی برادری فوری اقدامات کرے، وزیراعظم فیلڈ مارشل کو وائٹ ہاؤس میں بڑا پروٹوکول:ٹرمپ کی جانب سے ظہرانہ، کوئی سیاسی قیادت ہمراہ نہیں، تفصیلات سب نیوز پر مولانا فضل الرحمان کے چھوٹے فرزند اسجد محمود پر حملے کا انکشاف حکومت کا عوامی مطالبے پر بڑا فیصلہ؛ سولر پینل پرعائد ٹیکس کم کرنے کا اعلان سی ڈی اے پلاننگ ونگ کی جانب سے جموں کشمیر ہاؤسنگ سوسائٹی کو نوٹس جاری ، دستاویز سب نیوز پر ایف بی آر کو نان فائلرز کو زبردستی رجسٹر کرنے کا اختیار مل گیا اسلام آباد ہائی کورٹ: گریڈ 22 میں ترقی سے متعلق ترامیم چیلنج، حکومت سے جواب طلبCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چیئرمین ایف بی ا ر لاکھ روپے سب نیوز
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔