ایران سے تین ہزار پاکستانیوں کا انخلا مکمل ہوچکا، دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
اسلام آباد:
دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران سے تین ہزار پاکستانیوں کا انخلا مکمل ہوچکا ہے، پاکستانیوں کا ایران سے انخلا جاری ہے۔
میڈیا بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان ایران پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتا ہے، ان حملوں سے ایران کی خودمختاری متاثر ہوئی ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت ایران کے پاس دفاع کا حق ہے، عالمی برادری اور اقوام متحدہ اسرائیل حملوں کو روکیں۔
ترجمان نے کہا کہ ایران کی خود مختاری کے حوالے سے پاکستان، قطر، سعودی عرب، صومالیہ، ترکیہ، عمان، متحدہ عرب امارات الجیریا، بحرین، برونائی دارالسلام، جبوتی، مصر، عراق، اردن، کویت اور لیبیا نے بیان جاری کیا، اسحاق ڈار نے ایران، ترکیہ، متحدہ عرب امارات اور برطانوی وزیر خارجہ سے رابطہ کیا، رہنماؤں نے کشیدگی کو کم کرنے پر زور دیا۔
ترجمان نے کہا کہ اسرائیل نے ایران کے نیوکلیئر اثاثوں پر حملہ کر کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی، پاکستان ان حملوں کی مذمت کرتا ہے، اسرائیل کی جانب سے ایران کی اٹیمی تنصیبات کو نشانہ بنانا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، ہم ایران کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہیں اور ایران کو اخلاقی اور سفارتی سطح پر سپورٹ کررہے ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ ایران سے 3 ہزار پاکستانیوں کا انخلا مکمل ہوچکا ہے، پاکستانیوں کا ایران سے انخلا جاری ہے اور ایرانی حکام پاکستانیوں کے انخلا میں تعاون کررہے ہیں، ہمارا سفارت خانہ اور قونصل خانہ مسلسل کام کررہا ہے۔
کشمیر
ترجمان کے مطابق ہندوستان حکام کی جانب سے جموں کشمیر میں مظالم کا سلسلہ جاری ہے، جموں کشمیر میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر جامع مسجد اور عید گاہ میں نماز ادا نہیں کرنے دی گئی، یہ مسلسل ساتواں سال ہے کہ کشمیریوں کو جامع مسجد اور عید گاہ میں نماز ادا نہیں کرنے دی جارہی۔
امریکا سے تعلقات
امریکا کے معاملے پر انہوں ںے کہا کہ امریکا کے ساتھ دہائی پرانے اچھے تعلقات ہیں،امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات کا یہ سلسلہ جاری رہے گا،پاک بھارت کشیدگی کو کم کرنے میں امریکا اور صدر ٹرمپ کی کاوشوں کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستانیوں کا ایران سے ایران کی نے کہا
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔