برآمدات پر مبنی ترقی صنعتوں کے فروغ سے ممکن ہے، وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔19جون 2025)وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ برآمدات پر مبنی ترقی صنعتوں کے فروغ سے ممکن ہے، ملکی برآمدات میں صنعت مرکزی حیثیت رکھتی ہے،معاشی ترقی کیلئے ملکی صنعتوں کی ترقی نا گزیر ہے، وزیراعظم کی مینوفیکچرنگ سیکٹر کو نئی زندگی دینے کیلئے مؤثر صنعتی پالیسی کو جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت، ملکی صنعتوں کے حوالے سے وزیراعظم کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقدہ ہوا جس میں وفاقی وزراء ودیگراعلیٰ سرکاری حکام شریک ہوئے۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ نئی صنعتی پالیسی کے تحت مینوفیکچرنگ سیکٹر کو دوبارہ فعال کیا جائے گا۔ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کو ملکی صنعتوں کی ترقی کے حوالے سے سفارشات پیش کی گئیں۔(جاری ہے)
بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ مؤثر صنعتی پالیسی کے ذریعے ملک کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو بحال کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے صنعتی پالیسی کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ٹیرف پالیسی سے سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔ملکی صنعتوں کو عالمی معیار کے مطابق افرادی قوت اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ٹیرف ریشنلائزیشن پالیسی کے ذریعے ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔غیر یقینی صنعتی پالیسیاں صنعتوں کے فروغ میں حائل رہی ہیں۔ ہم ایک مؤثر پالیسی کی بدولت صنعتی ترقی کو نئی بلندیوں پر لے کر جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ برآمدات پر مبنی معاشی ترقی صنعتوں کی ترقی سے مشروط ہے۔ ملکی صنعتوں کو جدید ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ افرادی قوت سے لیس کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ حالیہ معاشی پالیسیاں ملکی صنعتوں کی ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دی گئی ہیں۔اس موقع پروزیراعظم نے ہدایت کی کہ ٹیرف ریشنلائزیشن پالیسی کو مؤثر انداز میں نافذ کیا جائے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو اور صنعتی شعبہ مستحکم ہو۔وزیراعظم شہباز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ صنعتی پیداوار میں اضافے اور صنعتوں کو درپیش مسائل کے پائیدار حل کیلئے صنعتی پالیسی کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے وزیراعظم شہباز شریف صنعتوں کی ترقی صنعتی پالیسی ملکی صنعتوں پالیسی کو صنعتوں کے کیا جائے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔