گوگل نے اے آئی سرچ کا نیا لائیو فیچر متعارف کرا دیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گوگل نے اپنی ایپ میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) پر مبنی نیا سرچ لائیو فیچر متعارف کرا دیا ہے، جو فی الحال امریکا میں آئی او ایس اور اینڈرائیڈ صارفین کے لیے دستیاب ہے۔ یہ فیچر دراصل گوگل کے جیمنائی لائیو کی طرز پر کام کرتا ہے۔
اب صارفین گوگل ایپ کے اندر موجود ایک نئے لائیو آئیکون پر کلک کرکے اپنی آواز کے ذریعے سوال پوچھ سکتے ہیں، اور گوگل نہ صرف ان کا سوال سنے گا بلکہ AI کی مدد سے آڈیو میں جواب بھی دے گا۔ یہ فیچر خاص طور پر ڈرائیونگ یا ملٹی ٹاسکنگ کے دوران مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
ایک کے بعد ایک سوال کرنے کی سہولت بھی موجود ہے، اور چیٹ سیشن کسی دوسری ایپ کے کھلنے کے باوجود بھی جاری رہے گا۔ جوابات تحریری شکل میں بھی دیکھے جا سکیں گے اور ان کی مکمل ٹرانسکرپٹ محفوظ رکھی جا سکے گی۔ ساتھ ہی AI موڈ ہسٹری کے ذریعے پرانی چیٹ کو دوبارہ دیکھا جا سکتا ہے۔
گوگل نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ فیچر امریکا سے باہر کب تک دستیاب ہوگا، لیکن یہ ضرور کہا ہے کہ آنے والے مہینوں میں اس فیچر کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔
یہ گوگل سرچ کی تاریخ میں 25 سال بعد ایک بڑی تبدیلی سمجھی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔