امریکہ کی پاکستان کو تھپکی اور پوشیدہ مقاصد
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
اسلام ٹائمز: اب امریکہ للچائی ہوئی نظروں سے اسے دیکھ رہا ہے۔ اس میں ہمارے آرمی چیف کی تعریفیں، پاکستان کو بہترین ملک قرار دینا اور ہمارے آئرن مین کو سپرمین اور نجانے کیا کیا تمغے لگانا، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ پاکستان سے کوئی بڑی قربانی لینا چاہتا ہے۔ تحریر: تصور حسین شہزاد
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہمارے آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کو ظہرانہ دیا۔ ہم پُھولے نہیں سما رہے۔ انہوں نے اپنے ’’خیالات عالیہ‘‘ میں ہمارے لئے کہا ’’آئی لوّ پاکستان‘‘ ہماری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ انہوں نے ہمارے چیف کو بہادر، فیصلہ ساز اور ’’پاور فل مین آف دا پاکستان‘‘ کہا، ہماری خوشی بے قابو ہوگئی اور ہمارے فارم فورٹی سیون والے وزیراعظم نے بھی مائنڈ نہیں کیا۔ لیکن ہر بات کی تہہ میں ایک بات ہوتی ہے اور وہی اصل بات ہوتی ہے۔ ٹرمپ صاحب بولے، آئی لوّ پاکستان، مجھے بھارتی فلم ’’پی کے‘‘ کا ڈائیلاگ یاد آگیا کہ ’’آئی لوّ چکن‘‘ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں اسے پکا کر کھاوں گا، یہ نہیں کہ مجھے اس سے پیار ہے۔ جب سے ٹرمپ نے یہ جملہ کہ ’’آئی لوّ پاکستان‘‘ کہا ہے، ہم پریشانی کا شکار ہیں کہ اگلی باری خاکم بدہن، پاکستان کی نہ ہو۔
استعماری قوتوں کی پالیسیاں ایسی ہوتی ہیں کہ یہ بیک وقت مختلف محاذوں پر کام کر رہے ہوتے ہیں۔ مثلاً ابھی ایران اسرائیل جنگ جاری ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کا پورا فوکس صرف اسی جنگ پر ہے، بلکہ وہ اس کیساتھ ساتھ دوسرے محاذوں پر بھی فعال ہوتے ہیں۔ امریکہ چین کا ناطقہ بند کرنا چاہتا ہے۔ اس محاذ پر وہ مسلسل کوشاں ہے۔ اس محاذ کو انہوں نے خالی نہیں چھوڑٖا۔ تائیوان کا ایشو کسی بھی وقت گرم ہوسکتا ہے۔ اس کیساتھ ساتھ ٹرمپ کی پاکستان کیلئے چھلکتی یہ محبت ’’گریٹر کشمیر‘‘ منصوبہ ہے۔ پینٹاگون یہ چاہتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو ملا کو ایک نیا ملک بنا دیا جائے۔ مسئلہ کشمیر کا حل یہ بھارت کیلئے بھی قابل قبول ہوگا اور پاکستان کو بھی آمادہ کیا جائے گا۔ اس کیلئے ایسا لگ رہا ہے کہ مودی نے اپنی آمادگی دکھا دی ہے۔ کیونکہ مودی کو چین سے خطرہ ہے۔ آخر بھارتی فوج افسران کب تک چینی فوجیوں سے تھپڑ کھاتے رہیں گے۔؟ یہی وجہ ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو حل کروانے کے ٹرمپ کے بیان کے بعد بھارت کی جانب سے کوئی ٹھوس ردعمل سامنے نہیں آیا۔
اب امریکہ یہ چاہتا ہے کہ مقبوضہ و آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو ملا کر ایک نیا ملک بنا دیا جائے۔ اس میں امریکہ عبوری سیٹ اپ بنائے گا اور کچھ عرصے بعد وہاں انتخابات کروا کر ایک منتخب حکومت تشکیل دیدے گا۔ اس سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان برسوں سے سلگتا ہوا مسئلہ حل ہو جائے گا اور دونوں ملک امن سے رہیں گے۔ ممکن ہے، حالیہ ٹرمپ، فیلڈ مارشل ملاقات میں اسی منصوبے پر بات چیت کی گئی ہو۔ اب سوال یہ ہے کہ امریکہ ایسا کیوں چاہتا ہے؟ تو اس کا جواب سادہ سا ہے کہ امریکہ کو چین کی گردن پر انگوٹھا رکھنے کیلئے ایک پلیٹ فارم کی ضرورت ہے اور اس سے بڑا سنہری موقع امریکہ کو اور کوئی مل ہی نہیں سکتا۔ اس سے جہاں چین کی دفاعی ناکہ بندی کی جاسکے گی، وہیں سی پیک منصوبے کا سنگم بھی گلگت بلتستان میں ہونے سے معاشی طور پر بھی بندش لگائی جا سکے گی، کیونکہ چین کا سی پیک منصوبہ گلگت سے ہی پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک میں داخل ہوتا ہے۔
پاکستان میں آنیوالا سی پیک کا روٹ کچھ عرصہ بند رہنے کے باعث چین نے اس کا رخ افغانستان کی جانب موڑ دیا تھا اور واخان کے راستے نیا روٹ بنایا، جس پر تیزی سے کام جاری ہے۔ اب امریکہ للچائی ہوئی نظروں سے اسے دیکھ رہا ہے۔ اس میں ہمارے آرمی چیف کی تعریفیں، پاکستان کو بہترین ملک قرار دینا اور ہمارے آئرن مین کو سپرمین اور نجانے کیا کیا تمغے لگانا، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ پاکستان سے کوئی بڑی قربانی لینا چاہتا ہے۔ ادھر ایران نے اسرائیل کیساتھ وہی سلوک کیا ہے، جو اسرائیل نے غزہ کیساتھ کیا تھا۔ یعنی اسرائیلیوں کو جلد ہی مکافات عمل کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے۔ ایرانی ابھی بھی رُکنے کا نام نہیں لے رہے۔ بعض مبصرین یہ کہہ رہے روس اور چین نے ایران کیساتھ تعاون نہیں اور تماشہ دیکھ رہے ہیں، ایران کو جنگ میں جھونک کر خود پیچھے ہٹ گئے ہیں۔
ان کیلئے عرض ہے کہ ایران نے خود ان سے فی الحال مدد لینے سے انکار کر دیا ہے۔ ایران نے کہا ہے کہ ابھی وہ اپنے اسلحے کے تجربات کر لے، جب ضرورت پڑی تو دوستوں کو زحمت دے گا۔ تو جو مبصرین استعمار کو خوش کرنے کیلئے یہ تجزیئے پیش کر رہے ہیں کہ روس اور چین نے ایران کیساتھ ہاتھ کیا ہے، وہ اسرائیل کو حوصلہ دینے کیلئے کوشش کر رہے ہیں کہ ایران تنہا ہے، اس کیساتھ کوئی نہیں۔ تو یہ مبصرین یاد رکھیں کہ اس بار بھی ’’اللہ ایران کیساتھ ہے‘‘ اور فتح اس کی ہوگی، جس کیساتھ اللہ ہوگا۔ صحافی : تصور حسین شہزاد
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان کو چاہتا ہے ا ئی لو ہیں کہ
پڑھیں:
ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
حاصل مطالعہ
عبدالرحیم
ٹرمپ نے اسرائیل کو کاک پٹ سے نکال کراکانومی میں بٹھا دیا ہے جس کے اسرائیل اور خاص طور پر وزیر اعظم کیلئے ممکنہ اہم نتائج نکلیں گے۔انہیں اس سال دوبارہ انتخاب کیلئے محنت طلب جنگ کا سامنا ہے۔نتن یاہو نے طویل عرصے سے اسرائیلی ووٹرز سے کہا ہوا ہے کہ وہ ٹرمپ سے سرگوشی کرتا ہے اور صدر کی حمایت برقرارکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ٹیلی ویژن پر تقریر میںانہوں نے اپنے آپ کو صدر کا ہم رتبہ قرار دیا اور اسرائیلیوں کو یقین دلایا کہ ان کی ٹرمپ سے تقریباً روزانہ بات چیت ہوتی ہے،خیالات اور مشورہ کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ اکٹھے فیصلہ کرتے ہیں۔
اے آئی اور بے روزگاری
یہ امر واضح ہے کہ اے آئی ہماری روزمرہ کی زندگیوں کی دوبارہ تشکیل کرے گی۔گولڈ مین ساچز کے اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے عشرے میں اے آئی موجودہ کام کے گھنٹوں کے25 فی صد کو خودکار بنا دے گی۔ وہائٹ کالر جابز میں لوگ مثلاً اکائونٹنٹس ، بینکرز اور وکلاء اپنے بہت سے کام خودکار پائیںگے،اسٹین فورڈ کے ایک جائزہ کے مطابق سافٹ ویئر انجینئرنگ ،کسٹمر سروس اورانٹری لیول کے روزگار میں16 فیصد کمی آئی ہے۔اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بڑھتی ہوئی طلب نے2022 سے 2 لاکھ سے زائد کنسٹرکشن روزگارپیدا کیا ہے۔ تین وجوہ ایسی ہیں کہ عالمی معیشت مشکلات سے جلد بحال ہونے کی قوت رکھے گی اور فعال رہے گی۔ اول، اے آئی25 فیصد روزگار کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ اس امر کا امکان ہے کہ لوگ اپنا وقت گزارنے کیلئے زیادہ بار آور طریقے تلاش کر لیں گے۔ پہلے ایک بینکنگ تجزیہ نگار کو ایک اسٹاک کی کارکردگی کا گراف بنانے کیلئے 6 گھنٹے لگتے تھے۔ اسے وال اسٹریٹ جرنل کے گزشتہ شمارے دیکھنا پڑتے تھے ،آج ایک تجزیہ نگاریہ کام سیکنڈوں میں کر سکتا ہے۔
دوم، کسی جاب کی کوئی جگہ لے سکتا ہے۔کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہوگا۔ ٹیلی ویژن میں لائیو انٹرٹینمنٹ کی طلب ختم نہیں ہوئی،نہ ہی انٹرنیٹ نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس یا فٹنس انسٹرکٹرز کا کام ختم کیا۔
سوئم، امریکی کمپنیاں سالانہ ڈھائی کروڑ اور ساڑھے تین کروڑ جابز ختم اور پیدا کرتی ہیں کیونکہ اے آئی چیزوں کوزیادہ جدت پسند بناتی ہے۔ معیشت اپنے آپ کو ڈھالتی رہتی ہے۔
بھارت کے نوجوانوں کیلئے غیر متوقع آواز
ابھیجیت دیپکے نے ڈیجیٹل گروپ کاکروچ جنتاپارٹی اس لئے قائم کی کہ بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر پکارا تھا۔طنزیہ کاکروچ جنتاپارٹی ان نوجوانوں کو اپیل کرتی ہے جنہیں حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔دوتین ہفتے قبل ابھی جیت دیپکے امریکہ میں ان ہزاروں بھارتی طلبہ میں ایک تھا جس کے پاس نئی گریجویٹ ڈگری تھی اور ملازمت کا خواہشمند تھا۔ پھر ایک کاکروچ نے اس کی زندگی بدل دی۔اس کی ابتدا ایک سوال سے ہوئی۔اجیت دیپکے بوسٹن یونیورسٹی میں پبلک ریلیشنز پرگرام کا 30 سالہ گریجویٹ تھا۔اس نے16 مئی کو ایکس پر پوسٹ کیاکہ کیا اگر تمام کاکروچز اکٹھے ہو جائیں؟وہ ایک روز قبل بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ کے کمنٹس کا جواب دے رہا تھا جنہوں نے نوجوان اور بے روزگار بھارتیوں کو کاکروچز کہا تھا جو ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ سوشل میڈیا پرشکایت کرتے ہیں اور سرگرم ارکان بن کر سسٹم پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔
ہزاروں جواب سے حوصلہ افزائی پاکر جنہوں نے اس کی کال کی توثیق کی،اجیت دیپکے نے اپنی ویب سائٹ پر اے آئی اور دوستوں کی مددسے دو گھنٹے میںمذاق مذاق میںکروچ جنتاپارٹی کا آغاز کیا۔مقصد نوجوانوں کیلئے تحریک پیدا کرناتھا جنہیںسست اور آن لائن پر اور حال ہی میں کروچز کہا جانے لگا۔ لاکھوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے جو بے عزتی کو فخر میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ دنوں کے اندرکروچ جنتاپارٹی کے بعض اکائونتس میں بھارت کی سب سے بڑی پارٹیوں سے زیادہ سوشل میڈیا کے فالوئرز ہوگئے۔اجیت دیپکے کے پیغام کا قبول کیا جانا بہت سے نوجوان بھارتیوں کے اداس موڈ کی بڑی کہانی بتاتاہے جو ملازمتیں تلاش کرنی کی جدوجہد کر رہے ہیں باوجودیکہ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت مسلسل4 برسوں سے ترقی کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتاپارٹی جس کے10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،ان لوگوں کو زبان دینا چاہتی ہے جنہیں کرپٹ حکومت نظر انداز کرتی ہے۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم تحریری طور پر پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں گیا؟ابھی جیت دیپکے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ سیاسی نظام ان کی پرواہ نہیں کرتا،خواہ سرکاری پارٹی ہو یا اپوزیشن۔ابھی جیت دیپکے اس وقت امریکہ میں ہے۔
ایپل کیا کرتا ہے؟
ایپل اپنی پروڈکٹس ڈایزائن کرتا ہے،ان کے چپس تیار کرتا ہے،آپریٹنگ سسٹم بناتا ہے،برانڈنگ،مارکیٹنگ اور ریٹیل ایکسپیرئینس کو کنٹرول کرتا ہے۔لیکن یہ مینوفیکچرکچھ نہیں کرتا ۔آئی فونز اور میک بکس کو ژینگزو میں فوکس کون اور پیگاٹرون شنگھائی میں مینوفیکچر کرتاہے۔ایڈوانسڈ چپسTSMC تائیوان میں تیار کرتی ہے جبکہ جنوبی کوریا میںسام سنگ ڈس پلے کرتا ہے۔ایپل ہر ڈیوائس سے منافع کا80 تا90 فیصد حاصل کرتا ہے جبکہ سپلائرز جوواقعی فزیکل ورک کرتے ہیں، باقی حصے پر لڑتے ہیں۔ یہ طریق کار کارپوریٹ منافع اور شیئر ہولڈرز کی قدر زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔
٭٭٭