چیئرمین ایچ ای سی کی تقرری کیلئے 8 رکنی سرچ کمیٹی قائم
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
وفاقی حکومت نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے نئے چیئرمین کی تقرری مسابقتی اور شفاف عمل کے تحت میرٹ پر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، موجودہ چیئرپرسن کی مدت میں مزید توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سرچ کمیٹی قائم کردی۔
واضح رہے کہ موجودہ چیئرپرسن کو دی گئی توسیع پہلے ہی اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کی جا چکی ہے۔ ایچ ای سی ایکٹ کے مطابق چیئرمین کو صرف ایک بار مدت میں توسیع دی جا سکتی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق 8 رکنی تلاش کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیر برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کریں گے۔
کمیٹی چیئرمین ایچ ای سی کے لیے موزوں امیدواروں کو شارٹ لسٹ کرنے اور سفارشات پیش کرنے کی ذمہ دار ہوگی، تاکہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں مؤثر قیادت اور بہتر طرز حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے وفاقی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے جب کہ اراکین میں وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر، عارف سعید، سلمان اختر، سیکرٹری ایپکس کمیٹی جہانزیب خان، پرووسٹ، آغا خان یونیورسٹی ڈاکٹر انجم ہلائی، پرووسٹ، آغا خان یونیورسٹی ڈاکٹر محمد نسیم قیصرانی، سکریٹر ی وفاقی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت ندیم محبوب کمیٹی کے رکن/سیکرٹری ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پیشہ ورانہ تربیت وفاقی تعلیم ایچ ای سی
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔