اسرائیل کا ایران پر جھوٹا الزام، سوروکا اسپتال کی حقیقت سامنے آگئی، سنسنی خیز انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تل ابیب: گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ایران نے اپنی سب سے بڑی میزائل اور ڈرون حملوں کی مہم شروع کی، جس کے نتیجے میں اسرائیلی فوج کے اہم اہداف نشانہ بنے، اس جواب میں تل ابیب نے اپنے میڈیا پلیٹ فارمز کا سہارا لے کر ایران پر ایک اسپتال پر حملے کا جھوٹا پروپیگنڈا شروع کر دیا۔
بین الاقوامی ذرائع کے مطابق ایک ایرانی میزائل اسرائیل کے ایک بڑے کمانڈ اینڈ کنٹرول مرکز (IDF C4I) اور گاؤیام ٹیک پارک میں موجود انٹیلی جنس کیمپ پر گرا، جسے اسرائیلی میڈیا نے اور صیہونی وزیر اعظم نیتن یاہو نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ ایک اسپتال تھا جہاں کوئی چل پھر بھی نہیں سکتا تھا۔
دوسری جانب برطانوی اخبار گارڈین نے تصدیق کی کہ اس اسپتال کا استعمال صہیونی فوجیوں کے علاج کے لیے ہوتا تھا، اسی طرح اسرائیلی وزارت صحت نے بھی اعتراف کیا کہ سوروکا اسپتال اپنے کام جاری رکھے ہوئے ہے اور اسے صرف معمولی نقصان پہنچا ہے۔
اسرائیلی ایمرجنسی سروسز تنظیم ستارہ داوود نے بھی تصدیق کی کہ ایرانی میزائلوں کا ہدف اسپتال سے ملحقہ بائیو ریسرچ سینٹر تھا جو ایک حساس سیکیورٹی زون ہے، سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیوں اسرائیل نے اپنے فوجی اور جاسوسی مراکز کو اسپتال کے گرد رکھا جو واضح طور پر اسے ایک ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی حکمت عملی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ دھماکوں کی لہر صرف اسپتال تک پہنچی جو اسرائیل کے اہم فوجی مرکز کو نشانہ بنانے کا نتیجہ تھی اور یہ میڈیا مہم اس کی ناکامی چھپانے کی کوشش ہے۔
واضح رہےکہ تصاویر سے بھی واضح ہے کہ گاو یام سینٹر سوروکا اسپتال کے بالکل بغل میں ہے، جہاں کچھ بھی نہیں ہوا ہے، یہ مراکز ہزاروں صہیونی فوجیوں، ڈیجیٹل کمانڈ سسٹم، سائبر آپریشنز، اور C4ISR نظام کی میزبانی کرتے ہیں، جو اسرائیلی فوج کے لیے نہایت اہم ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے بھاری میزائل حملوں کے پیش نظر اس اسپتال کو پہلے ہی خالی کرنے کی ہدایت کردی گئی تھی، اسرائیلی میڈیا واویلاکر کے اپنی اہم فوجی تنصیبات پر ایران کے تباہ کن حملوں کو نظر انداز کرنے کی کوشش کر رہا ہے حالانکہ اس نے خود ایران پر وحشیانہ حملوں میں کئی اسپتالوں کو نشانہ بنایا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔