Express News:
2026-06-03@04:42:45 GMT

نغمہ نگار خواجہ پرویز کو مداحوں سے بچھڑے 14 برس بیت گئے

اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT

پاکستان کے معروف موسیقار، نغمہ نگار اور فلمساز خواجہ پرویز کو اپنے مداحوں سے بچھڑے آج 14 برس بیت گئے۔

1932 میں امرتسر کے ایک کشمیری گھرانے میں آنکھ کھولنے والے نامور موسیقار کا اصل نام خواجہ غلام محی الدین جبکہ پرویز تخلص تھا، انہوں نے قیام پاکستان کے بعد لاہور کو اپنا مسکن بنایا اور 1950 کی دہائی میں نغمہ نگاری کا آغاز کیا۔ 

خواجہ پرویز نے اپنے 40 سالہ طویل کیریئر کے دوران اردو اور پنجابی زبان میں 10 ہزار سے زائد فلمی گیت تحریر کیے، ان کا لکھا ہر گانا اپنی مثال آپ تھا۔ پاکستان شوبز میں ان کی خدمات کو آج بھی سراہا جاتا ہے۔

نور جہاں، مہدی حسن اور استاد نصرت فتح علی خان جیسے عظیم فنکاروں نے ان کے الفاظ کو اپنی آواز سے امر کر دیا اور ان کے لکھے کئی ایسے گیت گنگنائے جو آج تک مشہور ہیں۔

گلو کارہ مسرت نزیر کے شادی بیاہ پر گائے جانے والے زیادہ تر گیت بھی خواجہ پرویز کے ہی تحریر کردہ تھے۔ 

خواجہ پرویز 20 جون 2011 کو دنیا سے رخصت کر گئے لیکن وہ اپنے فن کی بدولت آج بھی اپنے مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں اور نغمہ نگار کی برسی احترام کیساتھ منائی جارہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: خواجہ پرویز

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت