ایران میں پھنسے مزید 121پاکستانی وطن پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
ایران میں پھنسے مزید 121پاکستانی وطن پہنچ گئے WhatsAppFacebookTwitter 0 20 June, 2025 سب نیوز
لاہور (سب نیوز)ایران میں پھنسے ہم وطنوں کو لے کر پی آئی اے کی دوسری خصوصی پرواز آذر بائیجان کے شہر باکو سے لاہور پہنچ گئی، پی آئی اے کی خصوصی پرواز پی کے 7160کے ذریعے ایران میں پھنسے ہوئے 121 مسافر سہ پہر 3 بجکر 40 منٹ پر بحفاظت وطن پہنچے
ایرانی فضائی حدود بندش کے باعث، ایران میں موجود پاکستانی شہری زمینی راستے کے ذریعے آذر بائیجان کے شہر باکو پہنچے۔ اس تمام عمل میں ایران اور آذر بائیجان میں پاکستانی سفارتخانوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔قومی ایئر لائن کی یہ خصوصی پرواز حکومتِ پاکستان کی ہدایات پر روانہ ہوئی تھی۔ ترجمان کے مطابق پی آئی اے نے اس مشکل گھڑی میں بھی قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے اپنی خدمات پیش کیں، جو اس کی دیرینہ روایت ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسرائیلی حملے رکنے تک کوئی مذاکرات نہیں ہونگے، ایرانی وزیر خارجہ کا دو ٹوک اعلان اسرائیلی حملے رکنے تک کوئی مذاکرات نہیں ہونگے، ایرانی وزیر خارجہ کا دو ٹوک اعلان بانی کی رہائی کیلئے کسی ملک سے رجوع نہیں کریں گے، چیئرمین پی ٹی آئی عوام کو ریلیف دینے ، آئی ایم ایف پروگرام میں توازن کو برقرار رکھیں گے، بلال اظہر کیانی مہاجر ہونا کوئی جرم نہیں یہ ایک کربناک مجبوری ہے، مریم نواز صدرڈونلڈ ٹرمپ آئندہ 2ہفتوں میں ایران کے حوالے سے فیصلہ کریں گے،ترجمان وائٹ ہاوس مخصوص نشستیں، کیا سپریم کورٹ کو بے پناہ اختیارات حاصل ہیں؟ کوئی حد تو ہونی چاہیے،آئینی بنچCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایران میں پھنسے
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔