ایران طے کرے گا کہ جنگ کیسے ختم کی جائے گی، جواد ظریف
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
ایران کے سابق وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ ایران طے کرے گا کہ جنگ کیسے ختم کی جائے گی۔
سوشل میڈیا پر پیغام میں جواد ظریف نے کہا کہ حملہ آور کوئی بھی ہو، ایرانی قوم اسے ناک آؤٹ کردے گی۔
انہوں نے کہا کہ نسل کش بزدل کو تو علم ہی نہیں کہ اس نے کس چیز کا آغاز کیا ہے۔
جواد ظریف کا کہنا تھا کہ ایران نے تین صدیوں میں کسی ملک پر حملہ نہیں کیا مگر ایران نے ابھرنے کی ناقابل یقین قوت کا بھی اظہار کیا ہے۔
سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ عمارتیں گرائی جاسکتی ہیں مگر علم کبھی تباہ نہیں کیا جاسکتا، خاص طور پر جب 9 کروڑ محب وطن اور مخلص لوگ موجود ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے یہ جنگ شروع نہیں کی مگر یقینا فیصلہ ایران ہی کرے گا کہ اسے ختم کیسے کیا جانا ہے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جواد ظریف نے کہا کہ
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔