اسرائیلی جارحیت اقوام متحدہ کے چارٹر ،عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے،پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ اسرائیلی جارحیت اقوام متحدہ کے چارٹراورعالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں ہفتہ وارمیڈیا بریفنگ کے دوران شفقت علی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران پر اسرائیلی بلاجواز اور غیرقانونی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت اقوام متحدہ کے چارٹراورعالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، ایران کواقوام متحدہ کے آرٹیکل51کے تحت دفاع کا مکمل حق حاصل ہے، ایران پاکستانیوں کے انخلا کے لیے بھرپور تعاون کررہا ہے، تقریباً 3 ہزار پاکستانی ایران سے نکال لیے گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات کو نشانے بنانے کی شدید مذمت کرتے ہیں اسرائیلی جارحیت ایرانی خودمختاری اور سالمیت پر براہِ راست حملہ ہے، جسے 21 مسلم ممالک نے بھی ایک مشترکہ اعلامیے میں مسترد کر دیا ہے اوراسرائیلی اقدامات کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔ شفقت علی خان نے کہا کہ ایران کو بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے، ایران پاکستان کا قریبی دوست، ہمسایہ اور شراکت دار ہے، اور پاکستان ایران کے ساتھ ہر سطح پر رابطے میں ہے۔ علاقائی تناظر میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان جوہری عدم پھیلاؤ پر مذاکرات ہوئے ہیں جبکہ انہوں نے بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ عید کے موقع پر سرینگر جامع مسجد اور عیدگاہ میں نماز کی اجازت نہ دینا قابل مذمت ہے، اور مقبوضہ وادی کی سیاسی قیادت کو پابند سلاسل رکھا گیا۔ شفقت علی خان نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان دہشت گردی کا شکار ملک ہے، اور کینیڈین انٹیلی جنس ایجنسی کے حالیہ بیانات غیر ذمے دارانہ ہیں، امریکا کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ اور گہرے تعلقات ہیں، اور پاک بھارت جنگ بندی پر امریکی بیان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے ایران میں رجیم چینج سے متعلق قیاس آرائیوں کو محض افواہیں قرار دیتے ہوئے مسترد تے ہوئے کہا کہ ایران عالمی جوہری ادارے کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسرائیلی جارحیت اقوام متحدہ کے شفقت علی خان کی خلاف کہا کہ
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔