ماہرین کا چیٹ جی پی ٹی اور دیگر سے متعلق ہوشربا انکشاف!
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی جیسے مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس سے منطقی اور معقول سوال پوچھنا دیگر اقسام کے سوالات کے مقابلے میں زیادہ کاربن اخراج کا سبب بنتا ہے۔
جرمنی کی ہوکشولا میونخ یونیورسٹی آف اپلائیڈ سائنسز کے محققین نے بتایا کہ چیٹ جی پی ٹی جیسے لارج لینگوئج ماڈل میں لکھے گئے ہر سوال کے جواب کے لیے توانائی درکار ہوتی ہے جس سے نتیجتاً کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ہوتا ہے۔ اخراج کی مقدار چیٹ بوٹ، صارف اور مدعے پر منحصر ہوتی ہے۔
جرنل فرنٹیئر میں شائع ہونے والی تحقیق میں 14 اے آئی ماڈلز کا موازنہ کیا گیا جس میں معلوم ہوا کہ جن سوالات کے جوابات میں پیچیدہ عقلیات کی ضرورت ہوتی ہے وہ سادہ جوابات کے مقابلے میں زیادہ کاربن اخراج کا سبب بنتے ہیں۔
وہ سوالات جس میں جدید الجبرا یا فلسفے جیسے تفصیلی جوابات پوچھے جاتے ہیں وہ سادہ عنوان کے مقابلے میں چھ گُنا زیادہ اخراج کا سبب بنتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔