نوید قمر کی ٹیکس ریکوری سے متعلقہ قانون کو بہتر بناکر لانے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے چیئرمین نوید قمر نے کہا ہے کہ کسی کے اپیل کے اختیار کو ختم نہیں کرسکتے، آپ قانون کو بہتر بناکر کل پیش کریں۔
اجلاس میں ٹیکس ریکوری سے متعلقہ امور پر غور کیا گیا، چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے شرکاء کو بتایا کہ قانون کے تحت ٹیکس افسرکے اسیسمنٹ آڈر پر عمل درآمد کا وقت ہوتا ہے۔
اپوزیشن لیڈر عمر ایوب سمیت بعض ارکان نے پنشن پر ٹیکس لگانے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوئی ایپلٹ ٹریبونل اور ہائی کورٹ میں ہار جائے تو اس کا ٹیکس بینک اکاونٹ سے لیں گے۔
راشد لنگڑیال نے مزید کہا کہ جو ایپلٹ ٹریبونل میں جیت جائے اور ہائیکورٹ میں ہار جائے اس کی کٹوتی نہیں کریں گے، ہم ایسے شخص کو اپیل کا حق دیں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہم 2 موقع دے رہے ہیں، اس کے بعد اگر سپریم کورٹ میں جیت جائے تو 2 دن میں پیسے واپس کردیں گے، ویسے ایسے کیسز کے فیصلوں میں 7 سے 10 سال لگ جاتے ہیں، اگر اچھا وکیل ہو تو 60 سال تک مقدمہ کا فیصلہ ہی نہیں ہوتا۔
پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی مرزا اختیار بیگ نے رینٹل انکم پر 4 فیصد ٹیکس میں کمی کا مطالبہ کردیا۔
اجلاس کے دوران مبین عارف نے کہا کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد سزائے موت ڈائریکٹ نہیں ہوتی، عدالت کے فیصلے کے بعد کاپی ملنے میں ہفتہ لگ جاتا ہے۔
چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے استفسار کیا کہ آپ سپریم کورٹ جانے سے کیوں روک رہے ہیں، آئینی حق کیوں نہیں دے رہے ہیں؟ آپ سپریم کورٹ میں اپیل سے پہلے کیوں وصولی کرنا چاہتے ہیں؟
اس پر بلال اظہر کیانی نے کہا کہ سیشن اور ہائیکورٹ میں فیصلہ آنے یا اپیل خارج ہونے پر گرفتاری ہوتی ہے، ایک آدمی دو دفعہ ہار کر بھی ٹیکس ادا کرنے کو تیار نہیں ہے۔
نفیسہ شاہ نے کہا کہ یہ تو ٹیکس زبردستی وصولی کرنے والی بات ہے، اس قانون کے بعد مقدمہ بازی بڑھ جائے گی، اس کو انسانی حقوق کیخلاف ورزی کہا جائے گا۔
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ یہ معاملہ کمیٹی سے حل نہیں ہوگا، آپ اپنی رائے دے دیں۔
اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ اس قانون کے تحت ایف بی آر کو اختیار دیا تو لوگوں کو فیصلے کے بعد بھی پیسے نہیں ملیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ کورٹ میں کے بعد
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔