Daily Ausaf:
2026-06-03@07:39:00 GMT

قرآن مجید صرف ماضی کی نہیں مستقبل کی بھی کتاب ہے

اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT

(گزشتہ سےپیوستہ)
دوسری بات یہ کہ دنیا کے بہت سے لوگ اس مغالطے میں ہیں کہ دین اس لیے باقی ہے کہ مدرسہ باقی ہے۔ اسی لیے وہ مدرسے کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ اس کو محدود کرو، دباؤ میں رکھو، بلکہ ہو سکے تو بند ہی کر دو۔ یہ کارروائیاں کیوں ہو رہی ہیں؟ مغرب ایک بات سمجھے بیٹھا ہے کہ اس مادر پدر آزاد سوسائٹی کے دور میں دنیا پر غلبے کے راستے میں رکاوٹ صرف دین ہے۔ جب تک یہ دین باقی ہے کم از کم مسلم سوسائٹی میں تو مغرب کا فکری اور ثقافتی غلبہ نہیں ہو سکتا۔ یہ ان کے لیے ایک بہت بڑا بریکر ہے۔ دوسرا ان کے ذہن میں یہ ہے کہ دین باقی ہے مدرسے کی وجہ سے، اس لیے دین کو سوسائٹی سے بے دخل کرنے کے لیے مدرسے کو قابو کرو۔
میں عرض کیا کرتا ہوں کہ آپ کو مغالطہ ہے۔ قرآن مدرسے کی وجہ سے نہیں ہے، مدرسہ قرآن کی وجہ سے ہے۔ یہ مغالطہ جتنی جلدی دور کر لو بہتر ہے کہ مدرسہ نہیں رہے گا تو قرآن نہیں رہے گا۔ قرآن مجید تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے حوالے ہی نہیں کیا۔ پہلی کتابیں تورات اور انجیل انسانوں کے حوالے کی تھیں ’’بما استحفظوا من کتاب اللہ‘‘ (المائدۃ ۴۴) کہ پڑھو بھی، عمل بھی کرو اور حفاظت بھی کرو۔ ان سے حفاظت کا تقاضا کیا گیا تھا جو وہ نہیں کر سکے۔ قرآن کی باری آئی تو اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ تمہارے حوالے کر رہا ہوں، فرمایا ’’انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون‘‘ (الحجر ۹)۔ اور قرآن مجید کے دو چیلنج ہیں جو چودہ سال پہلے بھی تھے، آج بھی ہیں اور قیامت تک رہیں گے۔ ایک چیلنج تو وہی ہے جس کا ہم ذکر کرتے رہتے ہیں ’’ان کنتم فی ریب مما نزلنا علیٰ عبدنا فاتوا بسورۃ من مثلہ وادعوا شہداءکم من دون اللہ‘‘ (البقرۃ ۲۳) کہ اس جیسی ایک سورت لے آؤ۔ قرآن مجید کا ایک چیلنج اور بھی ہے کہ ’’انہ لکتاب عزیز۔ لا یاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ‘‘ (حم السجدۃ ۴۱، ۴۲) باطل قیامت تک دائیں بائیں آگے پیچھے سے جتنا مرضی زور لگا دے اسے قرآن مجید میں گھسنے کا راستہ نہیں ملے گا۔ یہ ’’کتاب العزیز‘‘ بھی ہے اور ’’کتابٌ عزیز‘‘ بھی ہے۔ یہ غالب کی کتاب تو ہے ہی، خود بھی غالب کتاب ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی حفاظت کی ذمہ داری خود اٹھائی ہے اور حفاظت کر رہا ہے۔ آج دنیا میں کس کتاب کے سب سے زیادہ حافظ ہیں؟ چند سال پہلے ایک امریکی ادارے نے سروے کیا اور کہا کہ قرآن مجید کے حفاظ تیرہ ملین (ایک کروڑ تیس لاکھ) ہیں۔کیا یہ قرآن مجید کا اعجاز نہیں ہے؟ قرآن مجید ہے اور یہ رہے گا، اللہ تعالیٰ کا اپنا نظام ہے اور وہ بے نیاز ہے۔ لندن میں انڈیا آفس لائبریری جانے کا اتفاق ہوا، حضرت مولانا سید نفیس الحسینی شاہ صاحب کے ساتھ، بڑے باذوق آدمی تھے، ان کا کتابی ذوق تو بہت بلند تھا، ویسے بھی بڑے آدمی تھے، تو وہاں ہم نے ’’مصحفِ عثمانی‘‘ دیکھا جو قرآن مجید کے اوریجنل چار پانچ نسخوں میں سے ایک ہے۔ میں نے اسے خود ہاتھوں میں اٹھا کر دیکھا اور اس پر لکھا ہوا یہ پڑھا ’’کتبہ عثمان بن عفان‘‘ کہ یہ قرآن حضرت عثمانؓ نے لکھا ہے۔ اور میں نے اس پر بادشاہوں کی مہریں دیکھیں، (خلافتِ عثمانیہ کے) سلطان سلیم اول کی، (مغلوں کے) جہانگیر اور شاہجہان کی، (ایران کے) اسماعیل صفوی کی مہریں بھی دیکھیں۔ یہ نسخہ بادشاہوں کے پاس سے ہوتا ہوا آیا ہے۔ میں قرآن مجید ہاتھوں میں اٹھا کر دیکھ رہا تھا، ورق گردانی کر رہا تھا اور آسمان کی طرف میری نگاہ تھی کہ یا اللہ! تو کتنا بے نیاز ہے کہ قرآن مجید کے اوریجنل نسخے کی حفاظت کن لوگوں سے کروا رہا ہے۔ اور وہاں ایک سند موجود ہے جس پر لکھا ہوا ہے کہ قرآن مجید کا یہ نسخہ مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ عثمان بن عفان نے لکھا تھا اور فلاں فلاں ذریعے سے ہوتا ہوا ہم تک پہنچا ہے اور ہم نے یہاں حفاظت سے رکھا ہوا ہے۔ میں نے کہا یا اللہ! صرف حفاظت ہی نہیں کر روا رہا اس کی اوریجنلیٹی کی گارنٹی بھی ان لوگوں سے دلوا رہا ہے۔
قرآن مجید کی حفاظت اللہ خود کر رہا ہے اور جب تک قرآن مجید ہے تو مدرسے بھی ہیں۔ کبھی کبھی ہمیں بھی یہ مغالطہ ہو جاتا ہے کہ ہم دین کی خدمت کر رہے ہیں، دین کی حفاظت کر رہے ہیں۔ ہم کچھ بھی نہیں کر رہے، ہم تو قرآن مجید کے ساتھ جڑ کر، دین کے ساتھ وابستہ ہو کر خود اپنی حفاظت کر رہے ہیں۔ ہم کشتی ٴ نوح میں بیٹھ کر کشتی کو کیا فائدہ پہنچا رہے ہیں؟ ہم خود اپنا بچاؤ کر رہے ہیں۔ اپنی دنیا کی حفاظت بھی کر رہے ہیں، آخرت کی حفاظت بھی کر رہے ہیں۔ ان کو بھی یہ مغالطہ دور کر لینا چاہیے جو مدرسوں کے پیچھے اس لیے پڑے ہوئے ہیں کہ مدرسہ بند ہو گا تو قرآن مجید کی تعلیم محدود ہو گی۔ اور ہمیں بھی مغالطے میں نہیں رہنا چاہیے، یہ بات ٹھیک ہے کہ ہم اسباب ہیں، یہ اللہ کی نعمت ہے، ناشکری بھی نہیں ہے، نا قدری بھی نہیں ہے۔ ایک فارسی کا شعر ہے :
منت منہ کہ خدمت سلطان ہمی کنی
منت شناس ازو کہ بخدمت بداشتت
یعنی بادشاہ کی خدمت کا موقع ملتا ہے تو بادشاہ پر احسان مت جتاؤ کہ میں تمہاری خدمت کر رہا ہوں، بادشاہ کا احسان مانو کہ تمہیں اپنی خدمت کا موقع دے رہا ہے۔ اس لیے ہمیں بھی اپنی نیت اور اپنا رخ صحیح رکھنا چاہیے کہ ہم قرآن مجید کے ساتھ وابستہ ہو کر اپنی حفاظت کر رہے ہیں۔ خدا کی قسم میں تو حق الیقین درجے کی بات کرتا ہوں کہ قرآن مجید کے ساتھ وابستہ ہو کر جتنی عزتیں ملتی ہیں دنیا کی کسی چیز سے نہیں ملتیں۔
پہلی بات میں نے عرض کی تھی کہ قرآن مجید صرف ماضی ہی کی تعلیم نہیں ہے، یہ حال کی تعلیم بھی ہے، مستقبل کی تعلیم بھی ہے، یہ ایڈوانس سٹڈی ہے کہ مستقبل کی ضروریات بھی قرآن پوری کر رہا ہے۔ اور دوسری بات کہ قرآن مجید مدرسوں کی وجہ سے نہیں ہے، مدرسے قرآن مجید کی وجہ سے ہیں، ہم قرآن مجید کی حفاظت نہیں کر رہے، قرآن مجید کے ساتھ وابستہ ہو کر اپنی حفاظت کر رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: قرا ن مجید کے ساتھ حفاظت کر رہے ہیں قرا ن مجید کی کہ قرا ن مجید اللہ تعالی کی وجہ سے کی حفاظت کی تعلیم نہیں ہے نہیں کر باقی ہے اس لیے رہا ہے بھی کر کر رہا بھی ہے ہے اور

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟