Jasarat News:
2026-06-03@04:39:38 GMT

اے سپہ سالارِ وطن! کیا آپ کو قوم کی بیٹی یاد ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ہمیں خبر ملی ہے کہ امریکا کی فصیلوں میں ایک دروازہ کھلا، اور اْس دروازے سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا قافلہ داخل ہوا۔ وہی امریکا جس نے کبھی ہمارے وزیراعظم کے فون تک نہ اٹھائے، آج اس کا صدر آپ سے ملاقات کو اعزاز کہہ رہا ہے اور ہمیں خوشی ہوئی… بے حد خوشی۔
لیکن اے سردار! یہ خوشی تاریخ کی تھکن سے نکلی ہے اور اس کے پیچھے بہت سے سوال، خدشے، زخم اور امیدیں چھپی ہیں۔ ماضی کی گرد اْڑتی ہے… اور ہمیں یاد آتا ہے کہ ہم نے وعدے سنے، وفاداری نبھائی، لیکن 1965 کی جنگ میں ہم تنہا تھے، 1971 میں ہمارا بازو کاٹ دیا گیا، افغان جہاد کے بعد ہمیں پْشیمانیوں کی دھول ملی، اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے بچوں کی قبریں اور دنیا کی طعنہ زنی، پھر FATF آیا، ڈرون حملے ہوئے اور پریسلر کی چھری چلی۔
تو سوال ہے سردار… کیا یہ تاریخ دہرانے کا آغاز تو نہیں؟ کیا امریکا کی یہ گرم جوشی کسی نئے سرد طوفان کی تمہید تو نہیں؟ کیا بھارت کو تھپکی اور پاکستان کو تسلی… ایک پرانی چال تو نہیں؟ ہم جانتے ہیں آپ باخبر ہیں مگر قوم بھی باشعور ہو چکی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ امریکا کے پاس دوست نہیں، صرف مفادات ہوتے ہیں۔ قوم آپ پر فخر کرتی ہے کہ آپ نے میدان میں، دل میں، وردی میں، ہر جگہ قرآن، سنت اور وطن کی عزت کو ترجیح دی۔ مگر اے سپہ سالار! اک سوال کرنے کی جسارت کرتا ہوں کہ شاہنواز فاروقی کا شعر ہے
’’نظام زیست کی حرمت بحال کرتے رہو
کوئی بھی بزم ہو اْٹھ کر سوال کرتے رہو‘‘
وہ اک سوال ہے… جو کہ بہت نازک… اور بہت پرانا۔ جب آپ نے ٹرمپ سے مصافحہ کیا تو کیا آپ کے دل میں ایک بیٹی کی قید کی کسک بھی جاگی؟ کیا ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا نام، جو مشرف کی غلامانہ سوچ اور سرد مہری کی بھینٹ چڑھی، جسے 86 سال کی سزا ملی صرف اس لیے کہ وہ قرآن سے محبت کرتی تھی۔ کیا اس بیٹی کا ذکر، اس خاندان کا دکھ، اس قوم کا زخم… آپ کے الفاظ میں ڈھلا؟
اے محافظ وطن! قوم کی آنکھ نم ہے… امید زندہ ہے… قوم کو معلوم ہے کہ آپ وفا کے قائل ہیں، آپ کے سینے میں وہ دل دھڑکتا ہے جو سجدے میں جھکتا ہے، تو ہمیں امید ہے کہ عافیہ کی رہائی کے لیے پہلی بار کسی نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی ہو گی۔ لیکن اے سپہ سالار…
ہم پاکستانی صرف یقین سے مطمئن نہیں، ہمیں خبر بھی چاہیے، مرہم بھی، اور جواب بھی۔ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ وقت حکمت و جرأت کا ہے، اور قوم دعاگو ہے کہ آپ کا ہر قدم، ہر بات، ہر ملاقات، جذبہ جہاد، عزتِ ملت، اور غیرتِ قوم کا علم بردار ہو۔ آپ سے بہتر کون جانتا ہوگا کہ یہ جو فتوحات ہم دیکھ رہے ہیں، یہ صرف توپ، ٹینک یا تعلق کی بدولت نہیں، یہ ایمان، تقویٰ، اور جہاد کے ثمرات ہیں۔ تو اس وقت ہمیں صرف جشن نہیں بلکہ بیداری، احتیاط اور توازن کی ضرورت ہے۔ اور آخر میں فقط ایک دعا: ’’اے اللہ! ہمیں ایسے رہنما دے جو دشمن سے ڈرے نہیں، اور دوست کو پہچانے، ہمیں ایسی حکمت دے جو غیرت کے ساتھ جڑی ہو، اور ایسی فتح دے جو صرف میدان میں نہیں، بلکہ قید خانوں، محروم دلوں، اور مظلوم بیٹیوں کے لیے ہو۔ آمین۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہے کہ ا

پڑھیں:

وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے بڑی سیاسی اور معاشی پیش رفت سامنے آئی ہے. جہاں حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ اب 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔اس تاخیر کی بنیادی وجہ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم ترین اجلاس ملتوی ہونا ہے، جو پہلے 3 جون کو شیڈول تھا۔حکومت کی جانب سے اس اجلاس کی منسوخی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ فی الحال وفاعل بجٹ پیش کرنے کی کسی حتمی نئی تاریخ کا تعین تو نہیں ہو سکا.تاہم اب بجٹ 8 یا 12 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا قوی امکان ہے۔سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، قومی اقتصادی کونسل کے اس اہم اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا. جس کے بعد ہی بجٹ کی حتمی تاریخ سامنے آ سکے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا