پاکستان کو ایران کے ساتھ کھل کھڑا ہوجانا چاہیے،فضل الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ ہیں اور پاکستان کو ایران کے ساتھ کھل کر کھڑے ہوجانا چاہیے ہمیں کھل کر غزہ کا ساتھ دینا چاہیے، لبنان، عراق، شام اور اب ایران پر حملے ہوچکے اگلی باری پاکستان کی ہے۔ قومی اسمبلی سے اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اور آرمی چیف کی ملاقات میں کیا ہوا نہیں پتا لیکن میرا خیال ہے ٹرمپ نے
کہا ہوگا کہ پاکستان بھارت، ایران اسرائیل جنگ نہیں ہونی چاہیے مگر ٹرمپ نے یہ نہیں کہا ہوگا کہ فلسطین اور اسرائیل جنگ نہیں ہونی چاہیے، غیر مسلح مسلمان، خواتین بچے مررہے ہیں اس کا کسی کو احساس نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلامی دنیا کا موثر ترین اور طاقت ور ترین ملک ہے ایٹمی ملک ہے اس میں صلاحیت ہے کہ امت مسلمہ کی قیادت کرے مگر حالت یہ ہے کہ ہم دفاعی پوزیشن میں ہیں قیادت تو کیا خاک کریں گے۔ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ اگر ایران اسرائیل کو جواب دے تو اس کے ہاتھ روکے جاتے ہیں، اگر پاکستان بھارت کو جواب دے تو اس کے ہاتھ روکے جاتے ہیں مگر اسرائیل کے ہاتھ نہیں روکے جاتے، آج 60 ہزار سے زاید فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، صیہونی درندوں کا اب بھی دل نہیں بھرا، دو روز میں ڈیڑھ ہزار لوگ شہید ہوچکے ہیں، بین الاقوامی اداروں کی اب کوئی حیثیت نہیں رہی، او آئی سی دکھاوا ہے، سلامتی کونسل کی کوئی حیثیت نہیں،خطے کیلیے سوچ سمجھ کر پالیسی بنانی ہوگی۔انہوںنے پاک بھارت جنگ پر کہا کہ یہ پاک بھارت نہیں بلکہ پاک مودی جنگ تھی، پاکستان کے خلاف جنگ میں بھارتی اپوزیشن اور وہاں کی سکھ برادری اور قوم انڈین حکومت ساتھ نہیں تھی، اگر کوئی اکیلے جنگ لڑے گا تو یہی حال ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایران کے ساتھ کھڑے ہیں اور پاکستان کو ایران کے ساتھ کھل کر کھڑے ہوجانا چاہیے ہمیں ایران کو اعتماد میں لینا چاہیے، ہمیں کھل کر غزہ کے ساتھ کھڑے ہوجانا چاہیے، یہود اور ہنود ایک دوسرے کے اتحادی ہیں، اسرائیل لبنان اور شام پر حملے کرچکا، عراق پر جو گزری سب کے سامنے ہے، ایران پر حملہ ہوچکا اور اب پاکستان کی باری ہے اور پاکستان کی ایٹمی قوت کو تباہ کرنا ان کا ایجنڈا ہے دوسری طرف بھارت بھی لڑنے کے تیار بیٹھا ہے جب کہ ہمارے دوست ممالک ہم سے دور ہوتے جارہے ہیں وہ گرم جوشی نہیں رہی۔ انہوں نے کم عمری کی شادی کے بل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ہر مکتبہ فکر کے علما اس بل کے خلاف ہیں، مسئلے کی نزاکت کو دیکھیں ہم جائز نکاح کے لیے مشکلات اور زنا کے لیے سہولتیں پیدا کررہے ہیں ۔ حکومت اپنے بجٹ کو بہتر قرار دیتی ہے مگر یہ کہیں سے بھی قابل تحسین نہیں، حکومت کو جس کی بات پسند نہیں آتی اس کی آواز بند کردیتی ہے، حکومت میں بجٹ بنانے کی صلاحیت بھی ختم ہوچکی، یہ بجٹ آئی ایم ایف نے بنایا ہے جسے صرف پڑھ کر سنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ہمارے علاقوں میں جن منصوبوں کا افتتاح کیا تھا اسی کے فنڈ آج وزیراعظم نے روک دیے، اس ملک کو انقلاب چاہیے روایتی سیاست کا دور ختم ہوچکا عوام میں شعور بیدار کیا جائے تاکہ وہ اپنے مسائل خود حل کرسکے۔ فضل الرحمن نے مزید کہا کہ معیشت قوت استعمال کرنے سے بہتر نہیں ہوگی بلکہ قوم کو انصاف فراہم کرنے سے بہتر ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہوجانا چاہیے فضل الرحمن کھل کر
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔