آج اسرائیل، ایران جنگ کو شروع ہُوئے آٹھ دن ہو چکے ہیں۔اسرائیل اگر پچھلے آٹھ دنوں میں ایران کے کئی شہروں پر پیہم خونریز حملے کررہا ہے تو ایران بھی اسرائیل کو بھرپور جواب دے رہا ہے۔

اسرائیل اور امریکہ کو ایرانی مزاحمت کا اندازہ نہیں تھا۔ امریکی صدر جس بے انصافی سے ایران اور اس کی سینئر ترین قیادت کو خونی دھمکیاں دے رہے ہیں ، اِس اسلوب نے امریکی باطن کو عیاں کر دیا ہے ۔

اسرائیل ، ایران مناقشے نے سارے مشرقِ وسطیٰ سمیت پاکستان کو بھی یکساں متاثر کیا ہے ۔ یہ جو ابھی حکومتِ پاکستان نے تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کرکے عوام کی کمر توڑی ہے، یہ بھی اسرائیل ایران جنگ کے پاکستان پر پڑنے والے منفی اثرات کا ایک حصہ سمجھنا چاہیے ۔ ایسے میں ہمارے فیلڈ مارشل، جنرل عاصم منیر، نے واشنگٹن میں امریکی صدر سے ملاقات کی ہے تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ یہ ملاقات کس قدر حساس ہوگی ۔

تازہ جنگ سے قبل ایرانی میزائلوں کی بڑی شہرت سنتے رہے ہیں، جن کی مبینہ مار 2ہزار کلومیٹر سے بھی متجاوز ہے ۔یہ میزائل اسرائیلی دارالحکومت ، تل ابیب، سمیت ہر اسرائیلی شہر کو بآسانی ہدف بنانے کی صلاحیت کے حامل ہیں۔ ایرانی جنگی ڈرونز کا بھی بے حد شہرہ رہا ہے ۔ مبینہ طور پر رُوس نے یہ جنگی ڈرونز ایران سے خریدے اور یوکرین کے خلاف استعمال کیے ۔

حیرت کی بات مگر یہ ہے کہ ابھی تک مذکورہ ایرانی میزائل اور ڈرونز جارح و حملہ آور صہیونی اسرائیل کے خلاف کیوں بروئے کار نہیں لائے جا سکے تاکہ اسرائیلی فوجی قیادت کا خاتمہ کرکے پورا بدلہ لیا جا سکتا ؟پاکستانی تو ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے ہاتھوں صہیونی ظالم و قاہر اسرائیل کی تباہی دیکھنے کے شدت سے منتظر ہیں ۔ ویسے تو صدام حسین مرحوم کے مشہورِ عالم ’’اسکڈ میزائلز‘‘ کی بھی بڑی دھوم تھی۔ جب انھیں اسرائیل کے خلاف ( خلیجی جنگ کے دوران) آزمانے کا وقت آیا تو وہ ٹھس ہو کررہ گئے ۔

لیکن ایرانی بیلسٹک میزائل اسرائیلی دارالحکومت، تل ابیب، پہنچے اور اسرائیل کے ’’پنٹاگان‘‘کو تباہ کر ڈالا۔ ایرانی میزائلوں کا تل ابیب پہنچ کر تباہی پھیلا دینا اس لیے بھی ایران کی بڑی جنگی کامیابی ہے کہ ایرانی میزائلوں نے تل ابیب پہنچنے کے لیے راستے کی لاتعداد رکاوٹوں کو عبور کیا۔یہ تکنیکی رکاوٹیں ایرانی میزائلوں کو Intercept کرکے تباہ کرنے کی صلاحیتیں رکھتی ہیں ۔ اور یہ تکنیکی صلاحیتیں اسرائیل کے ہمسایہ میں بسنے والے اسلامی ممالک ( جو امریکی اتحادی بھی ہیں) میں بھی نصب ہیں ؛ چنانچہ اِن سائنسی اژدہوں کے منہ سے بچ کر تل ابیب پہنچنا ایرانی میزائلوں اور ایرانی سائنسدانوں کی زبردست کامیابی کہی جا سکتی ہے ۔

اب تو اسرائیل نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ایران کے بیلسٹک اور ہائپر سونک میزائل تل ابیب پہنچے ہیں اور تباہی کا سامان بن گئے ہیں۔ خاص طور پر تل ابیب میں اسرائیل کے نہائت اہم تحقیقاتی ادارے ( ویز مین انسٹی ٹیوٹ)پر ایرانی میزائلوں کا حملہ اور اِس کی بربادی ۔

ایران ہمارا ہمسایہ ، برادر اسلامی ملک ہے ۔ ہم اس کا خسارہ اور نقصان برداشت نہیں کریں گے۔ ایران نے پاکستان کے ہر بحران میں پاکستان کی ممکنہ اعانت کرنے کی سعی کی ہے ۔ حالیہ پاک بھارت چار روزہ جنگ میں ایران کھل کر پاکستان کا ہمنوا دیکھا گیا۔ پاکستانی عوام دل و جان سے ، اسرائیل کے مقابلے میں، ایران کے حامی اور حمائتی ہیں۔ ایران پر اسرائیلی حملوں کے اثرات، لامحالہ، پاکستان پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔

اس لیے پاکستان کی کمزور معیشت کو مدِ نظر رکھتے ہُوئے پاکستانی قیادت کو سوچ سمجھ ہی کر فیصلے کرنا ہوں گے ۔ اسرائیل ، ایران جنگ کے دوران پاکستانی قیادت کا ایرانی سینئر قیادت سے قریبی اور بار بار رابطے بتا رہے ہیں کہ پاکستان اِس جنگ کو کس قدر سیریس لے رہا ہے اور یہ کہ پاکستان دُور اندیشی کا ثبوت دیتے ہُوئے اسرائیل ، ایران جنگ کے منفی اثرات سے خود کو کیسے محفوظ اور مامون رکھ سکتا ہے ۔

پاکستان کو اسرائیل کے خلاف ایران سے برادرانہ و اسلامی اخوت نبھاتے ہُوئے یہ حقیقت بھی پیشِ نگاہ رکھنا ہوگی کہ بھارت ، اسرائیل اور امریکہ گڑھ جوڑ گہرا ہے ۔ حال ہی میں ، مبینہ طور پر، پاک بھارت چار روزہ فیصلہ کن جنگ میں خفیہ طور پر اسرائیل نے بھارت کا ساتھ دیا ۔ اگرچہ اِس اعانت و امداد کے باوجود پاکستان نے نہائت مہارت سے بھارت کی ناک زمین سے رگڑ کر رکھ دی ۔ اگر اسرائیل کو ،خدانخواستہ، ایران پر بھی واضح جنگی بالا دستی حاصل ہو جاتی ہے تو آیندہ اسرائیل آگے بڑھ کر بھارت کے تعاون سے پاکستان پر بھی حملہ آور ہو سکتا ہے۔ اور اگر ایران بحری پیش قدمی کرتے ہُوئے ’’آبنائے ہرمز‘‘ کا ناطقہ بند کر دیتا ہے تو اِس سے تیل کی عالمی منڈی میں ترسیل میں شدید ترین رکاوٹیں پیدا ہوں گی ۔

یوں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں سرعت سے بڑھیں گی ۔ پاکستان بھی اِس کے منفی اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ اور یوں شائد پاکستان میں نئے سرے سے مہنگائی کا طوفان اُمنڈ پڑے گا۔ تازہ بجٹ نے تو پہلے ہی پاکستان کے اکثریتی پسماندہ عوام کی کمر توڑ دی ہے۔

ایران اور اسرائیل جنگ کے سائے اگر طُول کھنچ گئے تواِن سے پاکستان کے غریب ہی بالآخر پہاڑ تلے آئیں گے۔اور اگر اِس جنگ کے کارن ایرانی مہاجرین نے بھی پاکستان کا رُخ کر لیا تو پاکستان کی اسٹریٹجی کیا ہوگی ؟ ہم تو پہلے ہی چار عشروں سے پچاس لاکھ افغان مہاجرین کے بوجھ تلے مرے جا رہے ہیں۔

اسرائیل ، ایران جنگ کے اِن ایام میں امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیل کی اندھی حمائت میں ایران کی سینئرقیادت ( بشمول ایرانی سپریم کمانڈر آئیت اللہ خامنہ ای صاحب) کے خلاف جو زبان استعمال کررہے ہیں، اِس پر تاسف کااظہار ہی کیا جا سکتا ہے ۔ ٹرمپ کے بیانات میں تکبر اور غرور عروج پر ہے ۔

اُن کے الفاظ کسی بھی مہذب ملک کے سربراہ کو قطعی زیب نہیں دیتے ۔ ایران کو بھی شاباش کہ وہ حوصلہ مندی سے امریکی صدر کی دھمکیوں کا ترنت جواب بھی دے رہا ہے اور امریکہ سے کسی بھی کمپرومائز کے لیے (فی الحال )تیار نہیں ہے ۔ جناب آئیت اللہ خامنہ ای کے خلاف ٹرمپ کے لہجے میں وہی غرور محسوس کیا گیا ہے جو سابق امریکی صدور نے عراق ، لیبیا اور شام کے صدور کے خاتمے اور اُن کی حکومتوں کی مکمل تباہی میں اختیار کیا تھا۔

یہ امر بھی افسوسناک ہے کہ G7کی حالیہ سہ روزہ کانفرنس ( جو کینیڈا میں 16تا18جون2025ء جاری رہی )کے مشترکہ اعلامئے میں بھی ایران کے خلاف زبان استعمال کی گئی ہے ۔ جی سیون کے لیڈروں نے بیک زبان ایران کوDeescalationکامشورہ تو دیا ہے لیکن اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحیت کی مذمت کرنے سے گریز کیا ہے ۔کیا اِسے منافقت اور دوغلا پن نہیں کہا جائے گا؟ اسرائیل اور امریکہ ، مل کر، ایران کا سر جھکانا چاہتے ہیں ۔ دونوں یہودی و نصرانی قوتیں یکجا ہو کر اسلامی جمہوریہ ایران کو ایٹمی قوت بنتے نہیں دیکھ سکتیں ۔

اب تو ’’وال اسٹریٹ جرنل‘‘ نے خبر دی ہے کہ اگر ایران پر اسرائیلی میزائلوں سے ایران نے سرنڈر نہ کیا تو ممکن ہے امریکہ 30ہزار پونڈ وزنی اور مہلک Bunker Busterبم ایران کے خلاف استعمال کرے ۔ امریکہ یہ بم استعمال کرکے ایران کے پہاڑوں کی گہرائیوں میں بروئے کار ایٹمی تنصیبات کو برباد کرنا چاہتا ہے ۔ آئیے ، ہم سب ایران کی سلامتی اور فتح مندی کے لیے مل کر دعا کریں ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایرانی میزائلوں ایرانی میزائل ایران جنگ کے امریکی صدر اسرائیل کے اور امریکہ پاکستان پر پر اسرائیل اسرائیل ا ایران کے ایران پر تل ابیب کے خلاف رہے ہیں رہا ہے

پڑھیں:

امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.

U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.

Command centers.

Drone storage.

Communication networks.

Coastal surveillance.

Maritime capabilities.

AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6

— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔

???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT

The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.

CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE

— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ

متعلقہ مضامین

  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم