ڈاکٹری کا شعبہ ویسا ہی ہے جیسے وطن عزیز کے باقی سب شعبے۔۔۔ انتظامی اور تکنیکی امور میں تو گڑبڑ ہے ہی مگر ڈاکٹروں کے بیچ سفارش، فیورٹزم، دھینگا مشتی، جونیئرز ابیوز، سینیئرز کی آمریت اور بہت کچھ شامل ہے۔
ہم مشاہدات کی نہیں ان تجربات کی بات کر رہے ہیں جس کے بعد ہم نے یہ پلان بنایا کہ بس بہت ہو گئی۔
ٹیچنگ اسپتال کے ہر وارڈ میں ایک بادشاہ ہوتا ہے جسے پروفیسر کہتے ہیں، اس کے دائیں بائیں 2 وزیر ( ایسوسی ایٹ اور اسسٹنٹ پروفیسر)، مقرب خاص ( سینیئر رجسٹرار)، درباری ( میڈیکل آفیسرز) اور کمی کمین ( ٹریننگ حاصل کرنے والے ڈاکٹرز ) پائے جاتے ہیں۔
یہ بادشاہ جنگل کے بادشاہ جیسا ہی ہوتا ہے یعنی جی چاہے تو انڈا دے اور جی چاہے تو بچہ، کوئی محکوم بھی حکم حاکم سے سرتابی کا خواب نہیں دیکھتا۔ بادشاہ چاہے دن کے 10 بجے آئے اور آکر ایک چائے کی پیالی پی کر غائب ہو جائے، کس کی مجال کہ کوئی کچھ کہہ سکے۔
یہ بھی پڑھیں: بچے کے دل کی دھڑکن ابھی باقی ہے !
بادشاہ جس کو چاہے نواز دے، جس کو چاہے صلیب پہ لٹکا دے۔ نوازنے میں چھٹیوں سے لے کر کام سکھانے تک کے سب مراحل آتے ہیں۔ اور صلیب پر لٹکانے میں زبانی کلامی انتہا درجے کی چھترول، انکوائری سے لے کر کام نہ سکھانا، ٹھرک پن اور ٹریننگ کے کاغذات پر سائن نہ کرنا ہیں۔
بتائیے کیا کچھ سننا چاہیں گے؟ ہماری پوٹلی میں بہت کچھ ہے۔
ہم ایک بہت بڑے ٹیچنگ اسپتال میں کام کر رہے تھے۔ وارڈ کی سیاست میں کئی پارٹیاں پہلے سے ہی کام کر رہی تھیں۔ ہماری بدقسمتی کہ حالات سمجھنے سے پہلے ہی ہماری دوستی چھوٹی پارٹی سے ہو گئی جو پروفیسر صاحب اور دوسرے بڑوں کے لیے کچھ ناپسندیدہ بھی تھی۔ ناپسندیدگی کی وجوہات میں پارٹی لیڈر کے ابا کا ایک اور وارڈ کا پروفیسر ہونا تھا۔ بڑی پارٹی میں بہت گھاگ اور بااثر لوگ شامل تھے۔
ہماری مزید بدقسمتی دیکھیے کہ چھوٹی پارٹی کے لیڈر اور بڑی پارٹی کے سرکردہ ممبران کے بیچ جھڑپیں زور پکڑ گئیں اور جب فضا میں تناؤ عروج پر تھا تب وارڈ میں کسی چھوٹے موٹے اخبار کے کسی صحافی کی ماں بہن یا بیوی داخل ہو گئی۔ صحافی صاحب بہت کائیاں تھے، چپکے چپکے سب پارٹیوں کا جائزہ لیتے رہے اور پھر ان کا نزلہ بڑی پارٹی کے ممبران اور کرتادھرتا لیڈر پہ گرا۔ خوب مرچ مسالے کے ساتھ خبر اخبار میں چھپی کہ پارٹی ممبران اسپتال کے وارڈ میں مخرب اخلاق حرکتوں میں مصروف رہنے کی وجہ سے مریضوں کو خاطر خواہ توجہ نہیں دے پاتے ۔ لیجیے جناب خبر کیا چھپی، وارڈ میں قیامت آ گئی۔
مزید پڑھیے: پانچویں مہینے میں پانی کہاں گیا؟
بڑی پارٹی کے ممبران اور ان کے گھاگ کرتا دھرتا کے لیے یہ بہت بڑا شاک تھا۔ اس غم کا صدمہ کم کرنے کے لیے پارٹی ممبران نے پروفیسر صاحب کے پاس جا کر مگر مچھ کے ٹسوے بہائے، اور گھاگ کرتا دھرتا نے موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شک کا الزام چھوٹی پارٹی پہ رکھ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اخبار والوں کو اندر کی اطلاع کسی محرم راز سے ہی مل سکتی ہے۔ کرتادھرتا کا پروفیسر صاحب سے مطالبہ تھا کہ چھوٹی پارٹی کے ممبران کو سزا دے کر نشان عبرت بنا دیا جائے تاکہ رہتی دنیا تک کبھی کوئی ایسی جرات نہ کرے۔
پروفیسر صاحب تھے لائی لگ سو مان گئے لیکن اب ایک اور مسئلہ تھا۔ چھوٹی پارٹی کے جس ممبر پر قوی شک تھا اور جسے سزا دینا مقصود تھا اس ممبر کا بیک گراؤنڈ ایسا تھا کہ سزا دینے سے اسپتال میں پانی پت کی جنگ چھڑ سکتی تھی۔
اب کیا کیا جائے کے مصداق وارڈ کے بڑے سر جوڑ کے بیٹھے بمع گھاگ کرتا دھرتا کے اور منصوبہ بنایا گیا کہ چھوٹی پارٹی کے کسی ایسے ممبر کو سزا دی جائے جس کے آگے پیچھے کوئی نہ ہو یعنی ایک قسم کالاوارث۔۔۔ اور سوچیے یہ قرعہ ہمارے نام نکلا۔
ہمیں ملزم نامزد کرتے ہوئے پروفیسر صاحب کے دربار میں پیش کیا گیا جہاں پروفیسر اپنی کرسی پر میں کیا کروں کی تصویر بنے بیٹھے تھے اور گھاگ کرتا دھرتا زخمی شیر کی طرح ادھر اُدھر ٹہل رہے تھے۔
ہمیں دفتر میں جانے سے پہلے یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس خبر کا نزلہ ہم پر گرنے والا ہے اور ہم کالی بھیڑ قرار دیے جا چکے ہیں۔ کرتا دھرتا نے چیختے ہوئے فرد جرم پڑھ کر ہمیں سنائی جسے ہم نے فورا رد کر دیا۔ جس پہ کرتا دھرتا نے جیب سے قرانی نسخہ نکالا ( گویا تیاری کر کے آئے تھے) اور ہمیں اس پر ہاتھ رکھ کر قسم کھانے کو کہا۔
ہم عیار تھے نہ مکار۔۔۔ زندگی کے میدان کا تجربہ بھی مختصر ہی تھا سو آنسو پیتے ہوئے قسم بھی کھا لی۔
آج اتنے برسوں بھی وہ منظر آنکھ کے سامنے آتا ہے تو خون کھولنے لگتا ہے کہ منہ کیوں نہیں نوچ لیا ہم نے؟ شور کیوں نہیں مچایا؟
خیر جناب یہ سب کرنے کے باوجود بڑی پارٹی کے ممبران کے غصے کی آگ ٹھنڈی نہ ہوئی اور انہوں نے ’ڈو مور‘ کا مطالبہ کیا، جس کے نتیجے میں فیصلہ کیا گیا کہ ہماری خدمات ( ہم میڈیکل آفیسر تھے ) ایک دوسرے پروفیسر صاحب کو منتقل کی جائیں یعنی ایک دوسرے شیر کی کچھار میں بھیجنے کی تیاری۔ شاید ساتھ میں کوئی ہدایات وغیرہ بھی ہوں گی کہ کیسا سلوک کیا جائے؟
وارڈ سے نکالے جانے کا فیصلہ ہمیں ہضم نہ ہوا اور ہم مزاحمت کا فیصلہ کرتے ہوئے پرنسپل صاحب کے پاس پہنچ گئے جو بھلے مانس تھے۔ ہم آج بھی ان کے چہرے پر امڈتی حیرت یاد کر سکتے ہیں جو ہمارا قصہ سنتے ہوئی آئی تھی۔ آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ انہوں نے ہمارا ساتھ دیا تھا اور ہم نے انہی پروفیسر کے ساتھ کام کیا تھا جن کے سامنے یہ ڈرامہ کھیلا گیا تھا اور وہ کچھ نہیں کر سکے تھے۔ کبھی کبھی جنگل کا بادشاہ اصل میں کوئی اور ہوتا ہے ۔
مزید پڑھیں: جوش ملیح آبادی، ڈاکٹر رشید جہاں اور آج کی اداکارائیں !
ہم نے یہ قصہ کبھی اپنے بھائیوں یا صاحب کو نہیں سنایا، وجہ یہ نہیں تھی کہ ہم ان سے ڈرتے تھے، اصل میں ہمیں اس بات کا زعم تھا کہ ہم سب کچھ خود ہی ہینڈل کر سکتے ہیں۔
مزید میچیور ہونے کے بعد ہم نے صاحب کو بتایا تو انہوں نے کف افسوس ملا کہ ان کے ہاتھوں بڑی پارٹی کی ٹھکائی نہیں ہو سکی تھی۔
اب ہم سوچتے ہیں کہ کاش مدد لے ہی لی ہوتی، کچھ مناظر کا مزا ہم بھی چکھ لیتے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹیچنگ اسپتال ٹیچنگ اسپتال کا بادشاہ جنگل کا بادشاہ ڈاکٹروں کی سیاست ڈاکٹری کا شعبہ پارٹی کے ممبران پروفیسر صاحب ٹیچنگ اسپتال بڑی پارٹی کے وارڈ میں اور ہم تھا کہ کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔