ڈپٹی کمشنرانلینڈ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کی میرپور میں بڑی کاروائی
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
میرپور(نیوز ڈیسک)ڈپٹی کمشنرانلینڈ ریونیو ڈیپارٹمنٹ نے میرپور میں بڑی کاروائی کی ۔ ملک کے مشہور برانڈ نے سیلز ٹیکس کی ادائیگی نہیں کی ۔ مالی سال 2024 اور 2025 میں عوام الناس سے برانڈ نے کپڑوں کی فروخت میں 18 فیصد کے حساب سے کٹوتی کی تھی۔ مگر مالیہ سرکار میں بروقت جمع نہ کروایا گیا۔
محمود عالم چوہدری ، ڈپٹی کمشنر نے معلومات کی بنیاد پر مزکورہ سال کے لیے لگ بھگ 3 کروڑ مالیت کا ایڈجوڈیکیشن آرڈر پاس کیا تھا مگر برانڈ نے صرف 54 لاکھ تک رقم داخل خزانہ کروائی ۔ چیئرمین سینٹرل بورڈ آف ریونیو، جناب چوہدری رقیب صاحب کی خصوصی ہدایت پر ، کمشنر ان لینڈ ریونیو ساؤتھ زون ، سید عنصر علی نقوی نے برانڈ کے نجی بنک میں موجود اکاؤنٹ منجمد کر کے سیلز ٹیکس ریکور کرنے کی ہدایات دیں۔
فیلڈ اسٹاف پر مشتمل کمیٹی، انسپکٹر ناصر محمود، انسپکٹر آصف شاہ ، انسپکٹر محمد لقمان جرال،ہمراہ سٹاف ، غلام غوث، راجہ مظہر وغیرہ نے بروقت کارروائی کی ۔ ٹیکس نادہندہ کمپنی کھاڈی لیم۔لائن اور ڈائینر کے اکاؤنٹ سے ڈھائی کروڑ (25,279,114) روپے کی خطیر رقم نکال کر مالیہ سرکار میں جمع کروا دی۔
اپردیر: سیلاب کے باعث تباہی، 3 رابطہ پل ٹوٹ گئے، بچہ پانی میں بہہ گیا
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔