شاہ محمود قریشی کی 9 مئی کے مقدمے میں ضمانت منظور
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
انسداد دہشتگردی کی عدالت لاہور نے 9 مئی کے جلاؤ گھیراؤ سے متعلق مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور کر لی۔
یہ فیصلہ انسداد دہشتگردی عدالت کے جج منظر علی گل نے سنایا، جنہوں نے گزشتہ روز وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
مقدمہ تھانہ شادمان میں درج کیا گیا تھا، جس میں شاہ محمود قریشی پر جلاؤ گھیراؤ، پرتشدد مظاہروں اور امن عامہ میں خلل ڈالنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔
ادھر اسلام آباد سے بھی پی ٹی آئی قیادت کے لیے قانونی ریلیف کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ اسلام آباد کی مقامی عدالت نے تھانہ کراچی کمپنی میں درج اسی نوعیت کے جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں جن میں بیرسٹر گوہر علی، عمر ایوب، علی بخاری اور شعیب شاہین شامل ہیں کو بری کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ 9 مئی 2023 کے پُرتشدد مظاہرے جن میں حساس تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا کے بعد پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کے خلاف متعدد مقدمات قائم کیے گئے تھے۔ ان مقدمات میں پارٹی چیئرمین سے لے کر دیگر مرکزی رہنماؤں تک کو نامزد کیا گیا تھا، جن کی گرفتاریوں اور عدالتی کارروائیوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
9 مئی مقدمہ wenews انسداد دہشتگردی عدالت شاہ محمود قریشی ضمانت منظور لاہور وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انسداد دہشتگردی عدالت شاہ محمود قریشی لاہور وی نیوز شاہ محمود قریشی
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز