WE News:
2026-07-24@12:28:03 GMT

شاہ محمود قریشی کی 9 مئی کے مقدمے میں ضمانت منظور

اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT

شاہ محمود قریشی کی 9 مئی کے مقدمے میں ضمانت منظور

انسداد دہشتگردی کی عدالت لاہور نے 9 مئی کے جلاؤ گھیراؤ سے متعلق مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور کر لی۔

یہ فیصلہ انسداد دہشتگردی عدالت کے جج منظر علی گل نے سنایا، جنہوں نے گزشتہ روز وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

مقدمہ تھانہ شادمان میں درج کیا گیا تھا، جس میں شاہ محمود قریشی پر جلاؤ گھیراؤ، پرتشدد مظاہروں اور امن عامہ میں خلل ڈالنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔

ادھر اسلام آباد سے بھی پی ٹی آئی قیادت کے لیے قانونی ریلیف کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ اسلام آباد کی مقامی عدالت نے تھانہ کراچی کمپنی میں درج اسی نوعیت کے جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں جن میں بیرسٹر گوہر علی، عمر ایوب، علی بخاری اور شعیب شاہین شامل ہیں کو بری کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ 9 مئی 2023 کے پُرتشدد مظاہرے جن میں حساس تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا کے بعد پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کے خلاف متعدد مقدمات قائم کیے گئے تھے۔ ان مقدمات میں پارٹی چیئرمین سے لے کر دیگر مرکزی رہنماؤں تک کو نامزد کیا گیا تھا، جن کی گرفتاریوں اور عدالتی کارروائیوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

9 مئی مقدمہ wenews انسداد دہشتگردی عدالت شاہ محمود قریشی ضمانت منظور لاہور وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انسداد دہشتگردی عدالت شاہ محمود قریشی لاہور وی نیوز شاہ محمود قریشی

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن