نئے ہجری سال کا آغاز اور یوم عاشور کب ہوگا؟، سیکرٹری جنرل مرکزی رویت ہلال ریسرچ کونسل نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
سیکریٹری جنرل مرکزی رویت ہلال ریسرچ کونسل خالد اعجاز مفتی نے کہا ہے کہ ۔نئے ہجری سال 1447ھ کا آغاز یکم محرم الحرام 27 جون 2025ءسے ہو گا،
سیکرٹری جنرل مرکزی رویت ہلال ریسرچ کونسل نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ 06جولائی 2025 اتوارکو ملک بھر میں یوم عاشور روایتی مذہبی جوش و خروش اور عقیدت و احترام سے منایا جائے گا، نیا چاند بدھ 25 جون 2025ءکو پاکستانی وقت کے مطابق بعد دوپہر 3 بج کر 32 منٹ پر پیدا ہو گا۔
خالد اعجاز مفتی نے کہا کہ 29 ذی الحجہ یعنی جمعرات 26 جون 2025ءکی شام غروبِ آفتاب کے وقت چاند کی عمر جو کم از کم 18 گھنٹوں سے زائد ہونی چاہیے، وہ عمر پاکستان کے تمام علاقوں میں ساڑھے 27 گھنٹوں سے بھی زائد ہو چکی ہو گی۔ دوسری جانب غروبِ شمس اور غروبِ قمر کے درمیان فرق جو کم از کم 40 منٹ ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ فرق کراچی میں 74 منٹ ، جیوانی میں 75 منٹ ، کوئٹہ اور لاہور میں 76 منٹ ہوگا، اسلام آباد ، چارسدہ ، پشاور اور مظفر آباد میں 77 منٹ جبکہ گلگت میں 78 منٹ ہو گا، پاکستان کے جس حصے میں بھی مطلع صاف ہوا تو وہاں ہلال کی رویت آسانی سے ہو جائے گی۔
خالد اعجاز مفتی نے مزید کہا کہ لہٰذا پاکستان میں یکم محرم الحرام یعنی نئے ہجری سال 1447ھ کا آغاز جمعتہ المبارک 27 جون 2025 ءسے ہو گا، لاہور۔یومِ عاشور یعنی 10 محرم الحرام اتوار06 جولائی کو ہو گا۔
دوسری جانب محرم الحرام کا چاند دیکھنے کیلئے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق۔محرم الحرام 1447 ہجری کا چاند دیکھنے کے لئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 26 جون کو کوئٹہ میں طلب کیا گیا ہے۔
لاہور۔وزارت مذہبی امور کے مطابق مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس کوئٹہ میں طلب کیا گیا ہے، چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد اجلاس کی صدارت ہو گا۔
لاہور اور اسلام آباد سمیت زونل کمیٹیوں کے اجلاس اپنے متعلقہ صوبائی ہیڈ کوارٹرز میں منعقد ہوں گے، لاہور۔چاند کی رویت کا حتمی اعلان چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مرکزی رویت ہلال کمیٹی محرم الحرام
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔