نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیاہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ علی نے اپنے جانشین کیلئے 3 علماء کے نام تجویز کر دیئے ہیں ۔
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ کو خدشہ ہے کہ اسرائیل یا امریکہ انہیں شہید کرنے کی کوشش کرسکتا ہے جس کے پیش نظر انہوں نے اپنے جانشین کیلئے 3 علماء کے ناموں کو فائنل کر لیاہے ۔
آیت اللہ خامنہ ای کی جانب سے اپنے جانشین کے لیے جن 3 علما کے نام تجویز کیےگئے ہیں ان میں ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کا نام شامل نہیں جو کہ ایک عالم دین ہیں اور پاسدران انقلاب کے قریب سمجھے جاتے ہیں، اس سے قبل انہیں آیت اللہ خامنہ کا ممکنہ جانشین سمجھا جاتا رہا ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے ایک غیر معمولی فیصلہ کیا ہے کہ وہ ملک کی مجلس خبرگان رہبری (وہ علما کی کونسل جو سپریم لیڈر کا انتخاب کرتی ہے) کو اپنے تین تجویز کردہ ناموں میں سے جلد از جلد جانشین چننے کی ہدایت دے چکے ہیں۔
عام حالات میں نئے رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب کا عمل کئی ماہ تک جاری رہتا ہے، جس میں علما مختلف امیدواروں پر غور کرتے ہیں۔ لیکن جنگی حالات کے پیش نظر، آیت اللہ چاہتے ہیں کہ منتقلی فوری، منظم اور پُرامن ہو تاکہ نظام کو استحکام حاصل رہے اور ان کا نظریاتی ورثہ قائم رہے۔
86 سالہ آیت اللہ خامنہ ای 36 سالوں سے ایران کے سپریم لیڈر ہیں اور انہوں نے اپنی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے الیکٹرانک ڈیوائسز کا استعمال ترک کر دیاہے اور وہ کمانڈرز تک اپنے پیغامات قابل اعتماد افراد کے ذریعے ہی پہنچا رہے ہیں ۔
رپورٹ میں کہا گیاہے کہ ایرانی حکام کے مطابق، جیسے جیسے جنگ شدت اختیار کر رہی ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ طور پر اس تنازع میں شامل ہونے کے امکانات بڑھ رہے ہیں، ویسے ویسے ایران کی اعلیٰ قیادت اندرونی طور پر مختلف ممکنات کے لیے خاموشی سے تیاریاں کر رہی ہے۔
اگرچہ ایران کی اعلیٰ قیادت کے اندر جھانکنا مشکل ہے، لیکن ذرائع اور ایران میں موجود سفارتکاروں کے مطابق، ایران کا کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام اب بھی فعال ہے۔
رپورٹ کے مطابق سابق ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کو بھی جانشینی کے لیے ممکنہ امیدوار سمجھا جاتا تھا تاہم وہ 2024 میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔
ایرانی حکام کی طرف سے فی الحال اس رپورٹ پرکوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔خیال رہےکہ ایرانی سپریم لیڈرکے پاس بہت وسیع اختیارات ہیں، وہ ایرانی مسلح افواج کےکمانڈر ان چیف ہونےکے علاوہ عدلیہ، پارلیمنٹ اور انتظامیہ کے سربراہ بھی ہیں۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ا یت اللہ خامنہ ای ایرانی سپریم لیڈر کے مطابق

پڑھیں:

سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا