—فائل فوٹو

دفاعی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ ایران جنگ میں اب جو کچھ ہو گا، اُس کا ذمے دار امریکا کو ٹھہرایا جائے۔

امریکا کے ایران پر حملے کے بعد ’جیو نیوز‘ سے دفاعی تجزیہ کاروں ریئر ایڈمرل (ر) فیصل شاہ، بریگیڈیئر (ر) مسعود خان، ڈاکٹر قمر چیمہ، میجر جنرل (ر) زاہد محمود اور سابق سفیر جمیل احمد خان نے گفتگو کی۔

ریئر ایڈمرل (ر) فیصل شاہ نے کہا کہ امریکا نے جنگ کا دائرہ وسیع کر دیا ہے، اب جو کچھ ہو گا اس کا ذمے دار امریکا کو ٹھہرانا چاہیے۔

امریکا اسرائیل کی بے بسی دیکھ کر میدان میں آیا ہے: مسعود پزشکیان

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا نے اسرائیل کی بے بسی دیکھ کر خود میدان میں قدم رکھ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے لیے آبنائے ہرمز بند کرنا مشکل نہیں، ایسا ہوا تو کئی ممالک کی معیشت متاثر ہو گی کیونکہ 30 فیصد تیل اور 50 فیصد گیس اسی راستے سے جاتی ہے۔

بریگیڈیئر (ر) مسعود خان کا کہنا ہے کہ ایران پر امریکی حملوں کے بعد امن قائم رکھنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے، ایران خطے میں اپنی پراکسیز کے ذریعے امریکی اثاثوں پر حملے کر سکتا ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ ایران کے جوابی حملوں کے بعد اسرائیل دفاعی پوزیشن میں چلا گیا تھا، ایسی صورتِ حال میں اسرائیل امریکا کو جنگ میں شامل کرنے کی کامیاب رہا۔

ڈاکٹر قمر چیمہ نے کہا کہ ایران پر حملے میں امریکا نے ماضی کے برخلاف اقوامِ متحدہ، آئی اے ای اے اور امریکی انٹیلی جنس ڈائریکٹر سمیت پوری عالمی برادری اور قوانین کو نظر انداز کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے امریکی صدر سفارت کاری کو راستہ نہیں دینا چاہتے۔

میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے کہا کہ حوثیوں نے آبنائے بال المندل بند کرنے کی دھمکی دی ہے، جنگ بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، اگر ایسا ہوا تو پاکستان کے لیے مشکلات بڑھیں گی کیونکہ بڑی تعداد میں مہاجرین پاکستان آ سکتے ہیں۔

سابق سفیر جمیل احمد خان نے کہا کہ اگر ایران نے امریکی مفادات کو نشانہ بنایا تو اس کے خطے پر شدید اثرات ہوں گے، او آئی سی کو اعلیٰ سطح کا وفد امریاک بھیجنا چاہیے تاکہ معاملات خراب ہونے سے بچائے جا سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: امریکا کو نے کہا کہ کہ ایران

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان