data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

جدہ (سید مسرت خلیل) جموں کشمیر کمیونٹی اوورسیز (جے کے سی او)کے زیر اہتمام سابق صدر مسلم کانفرنس مرزا محمد شفیق جرال کے اعزاز میں مقامی ہوٹل میں ایک پُرتکلف عشائیہ کا اہتمام سردارمحمداشفاق خان سابق چیئرمین و صدرمسلم کانفرنس سعودی عرب کی جانب سے کیا گیا۔ جس میں نمایاں طور پرعبدالطیف عباسی ، چوہدری اظہر وڑائچ ۔ راجہ شریف زمان ۔ جان گلزار ۔ سردار اقبال یوسف۔ شجاع اعوان ۔ راجہ محمد ریاض۔ مرزا عمران جرال۔ حبیب یمنی اور زاہد مرزا کے علاوہ صحافی، کشمیر کمیونٹی اور پاکستان کمیونٹی کے بےشمار لوگوں نے شرکت کی ۔تقریب کی صدارت جموں کشمیر کمیونٹی اوورسیز (جے کے سی او) انجنیئر محمدعارف مغل نے کی۔ قاری محد آصف کی تلاوت قران پاک سے پروگرام کا آغاز ہوا۔ چوہدری خورشید احمد متیال نے اپنے خطاب میں جے کے سی او کے قیام اوراغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ یہ فورم 2005 کے زلزلے کےبعد قائم ہوا۔ کشمیر کاز کے لئے ہم سب متحد ہیں۔ دیارغیرمیں رہتے ہوئے ہم اس کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتے ہیں۔ اس فورم کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے کشمیرکےتمام اکابرین کے میزبانی کے فرائض ادا کئے۔ ہم پاک آرمی کو سلا م پیش کرتے ہیں اور کشمیری عوام کو بھی سلام پیش کرتے ہیں کہ انھوں نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔حالیہ جنگ کی وجہ سے مسئلہ اجاگرہوا ہے۔ انھوں نےکہا یہاں پر آزاد کشمیر کی جتنی اکائیاں ہیں آج ایک گلدستہ کی طرح ہیں۔ انھوں ائرفورس کے جوانوں کو خاص طور خراج تحسین جس طرح انھوں نے اس جنگ مین بہادری کا مظاہرہ کیا ہے۔ سردار وقاص عنایت، سابق چیئرمین جموں کشمیر کمیونٹی اوورسیز نے کہا کہ آج کی تقریب میں پاکستانی کمیونٹی کے لوگ بھی یہاں موجود ہیں۔ آج کی تقریب کا مقصد بھی یہ ہے ایک دوسرے کے حالات پرتبادلہ خیال کرنا۔ انھوں نے کہا کہ خوشی ہے حالیہ جنگ ایک جذبہ تھا اور وہ جذبہ تھاشہادت کا۔اور اسی جذبہ کے تحت انھوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ چوہدری محمد اکرم گجر، چیئرمین مسلم لیگ ن سعودیہ نے کہا کہ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں نے کشمیر کی قیادت کے ساتھ مل کرکشمیر کی ازادی کی جدوجہد میں شامل رہا۔ مہمان خصوصی مرزا شفیق جلال خطاب میں کہا کہ میں اپنے زمانہ طالب علمی سے سیاست شروع کی۔ وکالت کی، مسلم کانفرنس کاصدر بنا۔ انھوں نے کہا مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے آپ سفیر ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتیں مل کر اتفاق سے کام کرین۔انھون نے کہا اگر رائے شماری کرائی جائے تو سب پاکستان کے ساتھ ہونگے۔مسلح افواج ہماری حاظت کے لئے جو کردار ادا کررہی ہے وہ قابل تعریف ہے۔ ہماری دعا ہے کہ پورا کشمیر آزاد ہو تاکہ پاکستان مکمل ہو۔عارف مغل چیئرمین جموں کشمیر کمیونٹی اوورسیز نے اپمنے صدارتی خطاب میں مہمان خصوصی کی سیاسی، سماجی اور خدمت خلق کے جذبہ کے تحت خدمات پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر کاز کے لئے اور عوامی کام کرنے کی وجہ سے وہ بہے قابل احترام ہیں۔ آخر میں میزبان سردار اشفاق نے سب مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ خاص طور سے مہمان خصوصی کو عمرہ و حج کی مبارک باد دی۔ تقریب کی نظامت راجہ شمروزکی۔ محسن غوری نے دُعا کی۔.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جموں کشمیر کمیونٹی اوورسیز انھوں نے کہا نے کہا کہ جے کے سی کے لئے

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو